Al-Risala · July 1987 · page 2

کتنا فرق

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲

کتنا فرق

مکی دور کا واقعہ ہے۔ قریش کے مشرک سردار ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ انھوں نے مشورہ کیا کہ ہم محمدﷺ کے بارے میں لوگوں سے کیا کہیں ۔

کسی مشرک نے کہا کہ ہم یہ کہیں کہ وہ کاہن ہیں۔ ولید بن مغیرہ نے کہا کہ خدا کی قسم وہ کاہن نہیں۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے ۔ ان کے یہاں نہ کاہنوں کا گنگنا نا ہے اور نہ کاہنوں کی قافیہ پیمائی ہے۔ کسی نے کہا کہ ہم ان کو دیوانہ بتائیں۔ ولید بن مغیرہ نے کہا کہ خدا کی قسم وہ دیوانہ نہیں۔ ہم نے دیوانوں کو دیکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دیوانے کیسے ہوتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ہم ان کو شاعر کہیں ۔ ولید بن مغیرہ نے کہا وہ شاعر بھی نہیں ہیں۔ ہم شعر کی تمام قسمیں رجز، ہزج، قريض، مقبوض، مبسوط سے واقف ہیں۔ ان کا کلام شعر بھی نہیں۔ کسی نے کہا کہ ہم ان کو جادو گر بتائیں۔ ولید بن مغیرہ نے کہا کہ وہ جادوگر بھی نہیں ہیں۔ ہم نے جادو کو اور جادو گروں کو دیکھا ہے ۔ ان کے یہاں نہ جادو گروں کی طرح پھونکنا ہے نہ ان کی طرح گرہیں لگانا۔

لوگوں نے کہا پھر اے ابو عبد شمس ، آپ ہی بتائیے کہ ہم کیا کہیں ۔ ولید بن مغیرہ نے کہا کہ خدا کی قسم یہ بات نہیں۔ اور ان میں سے جو بات بھی تم کہو گے تو ضرور ان کا جھوٹ ہونا ظاہر ہو جائے گا ( وما انتم بقائلين من هذا شيئاً الا عرف انه باطل، سيرة ابن هشام، ہشام،الجز ءالاول صفحه (۲۸۴)

عرب کے مشرک سردار یہ جانتے تھے کہ وہ اپنے حریف (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف کچھ کہیں تو لوگ اسی وقت اس کو مانیں گے جب کہ وہ مطابق واقعہ ہو ۔ اگر ان کی بات واقعہ کے خلاف ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف اور دشمنی کے باوجود کوئی اس کو نہیں مانے گا۔ یہ عرب کے مشرکین کا کردار تھا۔ آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے بڑے اگر کسی کے خلاف ایک بات کہہ دیں تو ان کے حلقہ کے لوگ فوراً اس کو مان کر دہرانے لگتے ہیں خواہ وہ بات نہ واقعہ کے مطابق ہو اور نہ کہنے والے نے اس کی نقلی یا عقلی دلیل پیش کی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page