Al-Risala · July 1987 · page 3

اختلاف کے با وجود

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳

اختلاف کے با وجود

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے ۔ آخر عمر میں بعض جھوٹی خبروں کی بنا پر مصر کے ایک ہزار سے زیادہ آدمی مدینہ آئے۔ انھوں نے مدینہ پہنچ کر کافی شور و غل کیا اور آخر کار حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا۔ اگرچہ حضرت عثمان کے خلاف ان کا الزام سرا سر بے بنیاد تھا، مگر یہ مسلمان آپ سے اتنا برہم ہوئے کہ آپ کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی جانا بند کر دیا۔ یہاں تک کہ ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ھ کو حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ بوقت وفات آپ کی عمر ۸۲ سال تھی۔

حضرت عثمان کا محاصرہ تقریباً ۴۰ دن تک جاری رہا تھا۔ بلوائیوں نے جب حضرت عثمان کو گھیر لیا اور مکان سے نکلنے پر پابندی لگا دی تو آپ کے لیے مسجد جانا ممکن نہ رہا۔ خلیفہ کی حیثیت سے نمازوں کی امامت آپ ہی فرماتے تھے ۔ جب آپ کا مسجد جانا بند ہو گیا تو بلوائیوں کا سردار غافقی بن حرب کی امام بن گیا۔ اس نے مدینہ کی مسجد میں نمازوں کی امامت شروع کر دی ۔

یہ مدینہ کے مسلمانوں کے لیے بڑی سخت آزمائش کی بات تھی ۔ ایک طرف وہ اپنے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں، دوسری طرف وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک شخص جو کھلا ہوا مفسد اور غلط کار ہے، وہی مسجد کا امام بنا ہوا ہے ۔ اس نازک حالت میں ایک شخص حضرت عثمان سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ایسی حالت میں ہم کیا کریں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں یہ ہدایت فرمائی کہ تم لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرو۔ آپ نے فرمایا :

اذا هم احسنوا فاحسن معهم وان هم جب وہ لوگ کوئی نیک کام کریں تو اس میں ان کا ساتھ دو اور جب وہ لوگ کوئی برا کام کریں تو ان کی برائی سے دور رہو ۔

خلیفہ راشد کے اس واقعہ میں عظیم الشان نمونہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص سے ہمیں خواہ کتنی ہی زیادہ شکایت ہو، اس کے بارے میں اظہار رائے کرتے ہوئے ہمیں ہمیشہ انصاف پر قائم رہنا چاہیے ۔ ہمیں اپنے اختلاف کو حد کے اندر رکھنا چاہیے نہ یہ کہ اختلاف پیدا ہونے کے بعد ہم حد کے باہر نکل جائیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page