Steady, my boy, steady, get your hundred first.
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۶
اعتراف
سیدمشتاق علی کرکٹ کے انتہائی مشہور کھلاڑی ہیں۔ مسٹر شرد ورما سے ان سے انٹرویو لیا جو ہندوستان ٹائمس (۱۵ مئی ۱۹۷۰ء) میں شائع ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہماری کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم افراد نے وہ غیر معمولی مقام حاصل کیا ہے جو سید مشتاق علی نے حاصل کیا۔ تقریباً بیس سال تک وہ کرکٹ کے ہیرو بنے رہے۔ ان کے متعلق سرکار ڈوس (Sir Neville Cardus) نے کہا تھا کہ مشتاق گویا کہ ایک بازیگر ہے جو کامیابی حاصل کرنے کے لیے ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اسی طرح کیتھ ملر (Keith Miller) نے کہا کہ وہ ہمارے وقت کے ناقابل یقین حد تک اچھے کھلاڑی ہیں۔ سید مشتاق علی کی شہرت ۱۹۳۰ء میں شروع ہوئی جب کہ ان کی عمر صرف ۱۶ سال تھی۔ وہ اگر چہ کم کھیلتے تھے۔ مگر جب کھیلتے تھے تو ان کا کھیل سب سے زیادہ ممتاز ہوتا تھا۔ ۱۹۲۶۔ ۲۵ میں کلکتہ میں آسٹریلیا کی ٹیم اور ہندوستان کی ٹیم کا مقابلہ تھا۔ سید مشتاق علی کو ہندوستان کی ٹیم سے خارج کر دیا گیا۔ اس پر کلکتہ میں زبردست مظاہرے ہوئے اور ہر طرف یہ نعرہ گونج اٹھا : No Mushtaq, No Test آخر کار منتظمین نے سید مشتاق علی کو ٹیم میں شامل کیا۔ اب سید مشتاق علی کی عمر ۲۷ سال ہو چکی ہے۔ مسٹر شردور مانے اپنے حالات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بار انگلینڈ میں ہندوستانی اور انگریزی ٹیم کا مقابلہ تھا۔ انگریزی ٹیم کے کپتان ویلی ہیمنڈ (Wally Hammond) تھے۔ سید مشتاق علی نے رن بنانے شروع کیے۔ یہاں تک کہ وہ نوے سے آگے بڑھ گئے۔ ویلی ہیمنڈ اگر چہ مخالف ٹیم کے کپتان تھے، وہ اپنے جذبہ اعتراف کو روک نہ سکے۔ انھوں نے تیزی سے آکر مشتاق علی کا کندھا تھپتھپایا اور کہا کہ جمے رہو، میرے بیٹے جمے رہو، اپنا سو پورا کرو :
Steady, my boy, steady, get your hundred first.
مردہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت بے اعترافی ہے اور زندہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اعتراف۔ زندہ انسان کے سامنے ایک حقیقت آئے یا وہ ایک خوبی کا مشاہدہ کرے تو وہ اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا، خواہ یہ اعتراف اپنی ہار ماننے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues