What we call progress is the exchange of
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰
What we call progress is the exchange of
جس چیز کو ہم ترقی کہتے ہیں وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک ناخوش گواری کا دوسری ناخوش گواری سے تبادلہ ہے۔
ہوٹل کے ایک بند کمرے سے مسلسل شور کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ تالیاں بجانا، زور زور سے چلانا، باہر تک سنائی دے رہا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا۔ ابتدا میں سمجھا کہ کچھ لوگ شراب پی کر مدہوش ہیں اور مدہوشی میں چیخ پکار کر رہے ہیں ۔ جب بہت دیر تک سلسلہ جاری رہا تو میں نے ہوٹل کے ایک کارکن سے پوچھا کہ اس کمرہ میں اتنا زیادہ شور کیوں ہو رہا ہے۔ وہ میرے سوال پر مسکرایا اور پھر بولا: یہاں سیاست دانوں (Politicians) کوٹریننگ دی جارہی ہے۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان پروفیشنل سیاست دانوں سے بھر گیا ہے۔
یہاں ایک صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی کو قتل کر دیا گیا ۔ وہ امریکہ (فلا ڈلفیا) میں رہتے تھے اور نہایت قابل آدمی تھے۔ تاہم وہ فلسطینی تھے اور فلسطین کے مسئلہ پر آزادانہ اظہار خیال کرتے تھے ۔ مئی ۱۹۸۶ میں ایک روز اچانک دو آدمی ان کے گھر میں داخل ہوئے ۔ ان کے ہاتھ میں آرا تھا۔ انھوں نے ڈاکٹر اسماعیل اور ان کی امریکی بیوی کی گردن پر آرے چلا کر انھیں ذبح کر ڈالا اور بھاگ گئے ۔ اغلب ہے کہ یہ یہودیوں کی کارروائی تھی ۔ انھوں نے پروفیشنل مجرموں کے ذریعہ انھیں قتل کروا دیا۔ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی سے میری ملاقات کو الالمپور میں جولائی سنہ ۱۹۸۰ میں ہوئی تھی ۔
آج کل کی دنیا میں سیاست سے لے کر مجرمانہ قتل تک ہر چیز پروفیشن (پیشہ) بن گئی ہے۔ پیشہ ور لوگ سیاست چلاتے ہیں اور پیشہ ور لوگ ہی جرائم کرتے ہیں ۔
بنگلور کا یہ اجتماع کوئی عوامی نوعیت کا اجتماع نہیں تھا ۔ یہ دراصل "ڈکا تڑہ" کی ایک کانفرنس تھی ۔ مختلف مذاہب کی منتخب شخصیتیں دو درجن کی تعداد میں جمع ہوئیں ۔ ان کا تعلق عیسائیت، ہندو ازم، بدھزم، جین ازم، بسکھ ازم، پارسیت اور اسلام سے تھا۔ ہر آدمی نے متعین موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues