Missionary Ethics
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹
۲۶جون ۱۹۸۶ کو انڈین ائیر لائنز کی فلائٹ نمبر ۴۰۳ کے ذریعہ دہلی سے بنگلور کے لیے روانہ ہوا۔ ابتدائی مراحل سے گزر کر جہاز کے سامنے پہونچا تو دیکھا کہ ایک بہت بڑا ٹینکر جہاز کے پاس کھڑا ہوا ہے اور مشین کے ذریعہ پٹرول کا ذخیرہ جہاز کی ٹنکی میں پمپ کر رہا ہے ۔ جیسے ہی جہاز کا ایندھن ختم ہوا ، ایر پورٹ کا انتظام فوراً اس کی مدد کے لیے آ پہونچا ۔
یہ منظر دیکھ کر دل بھر آیا ۔ بے اختیار آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ میں نے کہا کہ خدایا ، میں قبل از وقت بوڑھا ہو گیا ۔ میری طاقت ختم ہو گئی ۔ تو میری مدد کے لیے آجا ۔ میرے اندر دوبارہ طاقت کا خزانہ بھر دے ۔ تاکہ میں تیرے دین کی خدمت کر سکوں ۔ میں انھیں جذبات میں گم تھا کہ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بھی اسی جہاز سے بنگلور جا رہے تھے ۔ انھوں نے ایک فرانسیسی مصنف کا قصہ بتایا جو تقریباً مفلوج ہے ۔ مگر اسی حالت میں اس نے تین اعلیٰ کتابیں لکھ ڈالی ہیں ۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب کی ملاقات اس فرانسیسی مصنف سے ہوئی تو اس نے کہا کہ جب میں لکھنے کی میز پر بیٹھتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ۳۵ سال کا ایک جوان ہوں ۔ یہ واقعہ بتا کر ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی قوت ارادی (Will power) کے ذریعہ کام کرتا ہے نہ کہ قوت جسمانی کے ذریعہ ۔
۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہوا ہمارا جہاز ڈھائی بجے دن میں بنگلور پہونچا ۔ کانفرنس کے منتظمین نے قیام کا انتظام ویسٹ اینڈ ہوٹل (West End Hotel) میں کیا تھا ۔ میرے کمرہ کا نمبر ۱۹۱ھ تھا ۔ یہاں میں ۲۶ جون سے ۳۰ جون ۱۹۸۶ تک مقیم رہا ۔ بنگلور اپنی سرسبزی اور معتدل آب و ہوا کی وجہ سے بہت مشہور ہے ۔ مگر صنعتوں کی کثرت نے پچھلے برسوں سے یہاں دو مسئلے پیدا کر دیے ہیں ۔ پانی کی کمی اور بجلی کی کمی ۔ اس دنیا میں ہر ترقی کے ساتھ ایک غیر ترقی لگی ہوئی ہے ۔ یہ دونوں کچھ اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس حقیقت کو ہیولاک ایلیس (Havelock Ellis) نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues