Al-Risala · July 1987 · page 11

معبود کی یکتائی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۱

الله الشاکرین - (محمد تو صرف ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے تھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ۔ اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ۔ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو ضرور بدلہ دے گا ۔

قرآن کی اس آیت کا سننا تھا کہ فوراً حضرت عمر فاروق ٹھنڈے ہو گئے ۔ بعد کے زمانہ میں انھوں نے اپنا اس وقت کا حال بتاتے ہوئے کہا : وقعت علی الارض وما تحملنی رجلای (میں زمین پر گر پڑا، میرے پاؤں میرا بوجھ نہ سنبھال سکے)

اس واقعہ میں انسان عبدیت کے آخری مقام پر نظر آتا ہے ۔ عبدیت یہ ہے کہ انسان خدا کے آگے ڈھہ پڑے۔ حضرت عمر فاروق یہی انسان ثابت ہوئے ۔ وہ خدا کا کلام سن کر بالکل لفظی طور پر زمین پر گر پڑے ۔ اپنی رائے کو انھوں نے اپنے دماغ سے اس طرح نکال دیا جیسے کہ وہ اللہ کے دماغ میں کبھی بھی ہی نہیں ۔

حقیقت پسندی

حضرت حسن حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے ۔ وہ اسلامی تاریخ کے پانچویں خلیفہ تھے ۔ انھیں تمام شرعی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق خلافت پر قائم رہنے کا حق حاصل تھا۔ مگر جب انھیں خلافت ملی تو صورت حال یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ جو اس وقت شام کے حاکم تھے ، انھوں نے خلافت سے باقاعدہ بغاو ت کر دی۔ خون عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر انھوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ کر لیا ۔

حضرت حسن بن علی نے حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ چالیس ہزار کی فوج ان کے ساتھ ہے اسی طرح حضرت امیر معاویہ کے ساتھ بھی تقریباً اتنے ہی آدمی تھے ۔ یہ دونوں فوجیں جوش و جذ بہ سے بھری ہوئی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے بے قرار تھیں۔ مگر حضرت حسن نے سوچا کہ یہ دونوں کے دونوں مسلمان ہیں۔ جنگ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ وہ قیمتی افراد جو اسلام کے جھنڈے کے نیچے اس لیے جمع ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے شرک کا خاتمہ کریں وہ خود اپنے آپ کو اور اسی کے ساتھ اسلامی تاریخ کو ختم کر ڈالیں گے ۔

حضرت حسن کی حیثیت جائز خلیفہ اسلام کی تھی ۔ جب کہ امیر معاویہ کی حیثیت یقینی طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page