Al-Risala · July 1987 · page 10

معبود کی یکتائی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰

ہے یا انتقال ہو گیا ہے ۔ حضرت عمر فاروق اس معاملہ میں سب سے آگے تھے ۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ہے میں اس تلوار سے اس کی گردن مار دوں گا ۔

مسجد نبوی میں زبردست خلفشار جاری تھا ۔ لوگ سخت مبہوت نظر آ رہے تھے ۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے ۔ انھوں نے صورت حال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مسجد کے ایک طرف تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ اپنی تقریر میں انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا : من كان يعبد محمدآ فان محمدا قدمات ومن كان يعبد الله فان الله حي لا يموت ( جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے ۔ اس پر کبھی موت آنے والی نہیں )

اس واقعہ میں انسان معرفت الہی کے آخری درجہ پر نظر آتا ہے ۔ انسان انسان ہے اور خدا خدا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا ہی اصل علم ہے ۔ اور یہ واقعہ اس اصل علم کی آخری شاندار مثال ہے ۔ حق کے آگے ڈھ پڑنا اوپر جو واقعہ نقل کیا گیا اس موقع پر حضرت عمر فاروق کا کردار ابتداء ابے حد انتہا پسندانہ تھا۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پیغمبر اسلام کا جسم بولتے بولتے خاموش ہو گیا ۔ مگر انھیں یقین نہیں آیا کہ یہ آپ کی وفات کا واقعہ ہے ۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ ایک قسم کی روحانی معراج کا واقعہ ہے آپ اپنے رب کے پاس گیے ہیں اور جلد ہی دوبارہ زمین پر واپس آئیں گے۔

وہ اس معاملہ میں کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر صدیق کی بھی نہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے مسجد نبوی میں داخل ہو کر ان کو چپ ہونے کے لیے کہا۔ مگر وہ چپ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔ ان کا ہاتھ تلوار کے دستہ پر تھا اور ان کی زبان بے تکان بولے چلی جا رہی تھی۔ یہ لمحہ تھا جب کہ حضرت ابو بکر صدیق مسجد نبوی میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے ۔ انھوں نے حضرت عمر فاروق کی آواز پر اپنی آواز کو تیز کرتے ہوئے اپنی تقریر شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق تقریر کرتے ہوئے اس آیت تک پہنچے : وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل انامات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page