Al-Risala · July 1987 · page 14

عدل وانصاف

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴

نفع دو گے ۔ انھوں نے کہا : دس درہم پر بارہ درہم ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے ۔ انھوں نے کہا : دس درہم پر چودہ درہم ۔ حضرت عثمان نے کہا مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے ۔ انھوں نے کہا اچھا دس درہم پر پندرہ درہم ۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کون آپ کو اس سے زیادہ دے رہا ہے۔ جب کہ مدینہ کے جتنے تاجر ہیں سب یہاں جمع ہیں ۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو ہر ایک درہم کے بدلے دس درہم مل رہا ہے ۔ پھر کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو ۔ انھوں نے کہا نہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ اللہ نے اپنی کتاب پاک میں فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس کا دس گنا بدلہ ہے (انعام ۱۶۰) تو اے مدینہ کے تاجرو گواہ رہو کہ میں نے یہ تمام غذائی سامان اللہ کے لئے شہر کے ضرورت مندوں پر صدقہ کر دیا (العبقریات الاسلامیہ صفحہ ۵۷۲)

یہ واقعہ خدا کے وعدہ پر یقین کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ خدا پر ایمان آدمی کے اندر اسی قسم کا یقین و اعتماد پیدا کرتا ہے ۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کا یقین و اعتماد پیدا ہو جائے وہ اغراض و مصالح سے اوپر اٹھ جاتا ہے ۔ اس کے حوصلے اتنا زیادہ بلند ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد بڑی سے بڑی قربانی بھی اس کے لیے مشکل چیز نہیں رہتی۔

عدل وانصاف

حضرت عمر بن عبد العزیز (۱۰۱ - ۶۲ ھ) پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے خادم ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آپ کی اہلیہ سے کہا کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے میرا برا حال ہو گیا ہے۔ خاتون نے جواب دیا: تمھارے خلیفہ کا بھی رو ز کا کھانا یہی ہے۔ آپ سے پہلے خلیفہ کی حفاظت کے لئے ایک سو سپاہی مقرر تھے ، جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے سب کو دوسرے سرکاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا : میری حفاظت کے لئے قضا قدر ہی کافی ہے۔ یہ اس شخص کا حال تھا جس کی سلطنت کے حدود سندھ سے لے کر فرانس پھیلے ہوئے تھے۔ آپ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ سمرقند کے باشندوں کا ایک وفد آیا ۔ اس نے ایک فوجی سردار قتیبہ بن مسلم باہلی کے بارے میں یہ شکایت کی کہ اسلامی قاعدہ کے مطابق انھوں نے ہم کو پیشگی تنبیہ نہیں کی اور ہمارے شہر میں اچانک اپنی فوجیں داخل کردیں ۔ لہذا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ سمرقند کی فتح حضرت عمر بن عبد العزیز سے پہلے ہوئی تھی ۔ اور اب اس پر سات سال گزر چکے تھے۔ مگر آپ نے انصاف کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page