عدل وانصاف
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۵
تقاضے کو پورا کرنا ضروری سمجھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے عراق کے حاکم کو لکھا کہ سمر قند کے لوگوں کے مقدمہ کی سماعت کے لئے ایک خصوصی قاضی مقرر کریں۔ عراق کے حاکم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جمیع بن حاضر الباہلی کو اس کا قاضی مقرر کیا ۔ ان کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ دونوں فریق نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے دلائل پیش کئے ۔ آخر میں قاضی نے سمر قند والوں کی شکایت کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ۔ مسلمانوں کی فوج سمر قند کو چھوڑ کر باہر آ جائے اور اہل سمر قند کو ان کا قلعہ اور تمام دوسری چیزیں واپس کر دی جائیں۔ اس کے بعد اسلامی قاعدہ کے مطابق مسلمانوں کا فوجی سردار ان کے سامنے ضروری شرطیں پیش کرے ۔ اگر وہ تمام شرطوں کو ماننے سے انکار کر دیں تو پھر اس کے بعد ان سے جنگ کی جائے ۔ اسلامی فوج اس وقت فاتحانہ حیثیت رکھتی تھی۔ اس نے چین جیسے ملک کے بادشاہوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر جب قاضی نے اپنا فیصلہ سنایا تو اسلامی فوج کے سردار نے کسی بحث کے بغیر اس کو مان لیا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ پوری فوج سمر قند چھوڑ کر نکل آئے۔ تا ہم اس پر عمل در آمد کی نوبت نہیں آئی۔ سمر قند کے لوگوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس قدر با اصول اور انصاف پسند ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔ اس سے پہلے انھوں نے کبھی ایسے بے لاگ انصاف کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مسلم فوج کا آنا ان کے لئے رحمت کا آنا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے مسلم حکومت کو قبول کر لیا۔ وہ کہہ اٹھے: خوش آمدید ہم آپ کے مطیع و فرماں بردار ہیں (مرحبا سمعنا و اطعنا، فتوح البلدان للبلاذری) یہ واقعہ عدل و انصاف کا جو نمونہ پیش کر رہا ہے ۔ اس کی مثال ساری تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ اس واقعہ میں عدل و انصاف کا اصول اپنے آخری اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے ۔ عدل بلاشبہ انسانی زندگی کی بلند ترین قدر ہے ، اور یہ واقعہ اس قدر کے اعتراف کی بلند ترین عملی مثال ۔
زیر طبع تذکیر القرآن جلد دوم ( سوره کهف - سوره ناس ) صفحات ۸۰۰
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues