دورِ جدید کی تحریکیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۷
قیاس کیا جاسکتا ہے۔ یہ مثال مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ہے ۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
”مارچ ۱۹۳۷ میں جب میں دہلی گیا اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ سیاسی حالات کے تغیر سے مسلمانوں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جس قدر بھی طاقت خدا نے مجھے دی ہے اس کو اسی انقلاب کے مقابلہ میں صرف کروں ۔ چنانچہ میں نے دہلی سے حیدر آباد پہونچتے ہی اس نئی مہم کی ابتدا ترجمان القرآن کے مضامین (مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش) سے کر دی۔ آج کل میرے خیالات میں ایک ہلچل رہا ہے جس نے مجھے پرسکون تفکر کے قابل نہیں رکھا ۔ دہلی سے ایک آگ اپنے سینہ میں لایا ہوں اور ہر لمحہ یہ فکر دامن گیر ہے کہ اب کیا کروں ۔ جو طوفان ہمارے سر پر آگیا ہے کیا وہ ہمیں اتنی فرصت دینے کے لیے تیار ہے کہ ہم اس طرح اطمینان سے بیٹھے ہوئے اپنی ٹوٹی ہوئی کشتی کو از سر نو تیار کریں۔ ایک طرف ایک منظم طاقت ہے جو نیشنلزم اور ڈیموکریسی کے مجموعہ کو پراونشل اٹانومی کے زبردست وسائل سے ہندوستان جدید کی تعمیر اس نقشہ پر شروع کر چکی ہے جس میں مسلمان قوم کے لیے بحیثیت مسلمان ہونے کے کوئی جگہ نہیں۔ دوسری طرف مسلمان ایک ریوڑ کی طرح ہندوستان کے طول و عرض میں بھٹک رہے ہیں“ (ملخصاً) حکمت قرآن (لاہور) ستمبر اکتوبر ۱۹۸۴ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات واضح طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی حقیقہ " واقعات انسانی " سے متاثر ہوکر اٹھنے نہ کہ " واقعات خداوندی " سے متاثر ہوکر۔ اور اسی کا نام ردعمل کی نفسیات کے تحت اٹھنا ہے ۔ یہی معاملہ موجودہ زمانہ میں تمام مسلم رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے ۔
موجودہ زمانہ میں جو مسلم تحریکیں اٹھیں ان کی دو قسمیں کی جاسکتی ہیں۔ ان کی پہلی قسم وہ ہے جو انیسویں صدی کے نصف ثانی میں ظاہر ہوئی ۔ اور دوسری قسم وہ ہے جو بیسویں صدی کے نصف اول میں پیدا ہوئی اور پھیلی۔
موجودہ زمانہ میں مغربی قو میں جدید قوتوں سے مسلح ہوکر ابھریں اور انھوں نے پوری دنیا کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مغلوب کر لیا۔ اس کی زد سب سے زیادہ مسلمانوں پر
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues