دورِ جدید کی تحریکیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶
دورِ جدید کی تحریکیں
موجودہ زمانہ میں مختلف مسلم ملکوں میں بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں جو اپنے دعوے کے مطابق تجدید کی تحریکیں تھیں۔ مزید یہ کہ ان تحریکوں کو بہت بڑی مقدار میں ساتھ دینے والے افراد بھی ملے اور مادی وسائل بھی، حتیٰ کہ اس سے بھی زیادہ جتنا قدیم زمانہ میں پیغمبروں کو ملے تھے۔ اس کے باوجود یہ تحریکیں عملی طور پر سراسر بے نتیجہ رہیں۔ وہ اُس منزل پر پہنچنے میں ناکام رہیں جس کو انھوں نے اپنا نشانہ بنایا تھا۔
ان تحریکوں کے معتقدین نے بطورِ خود اگرچہ بہت بڑے بڑے الفاظ پالئے ہیں جو وہ اپنی تحریک یا اپنی شخصیتوں کے بارہ میں بول سکیں۔ مگر یہ محض الفاظ ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مثلاً سید ابو الاعلیٰ مودودی کے معتقدین موجودہ عہد کو "سید مودودی کا عہد" کہتے ہیں۔ مگر اس کی حقیقت لفظی بازیگری سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ میں نے ان حضرات سے کئی بار پوچھا کہ جس چیز کو آپ سید مودودی کا عہد کہتے ہیں وہ کہاں ہے تاکہ میں بھی وہاں جاکرہ اسے دیکھوں۔ کیا وہ سید ابو الاعلیٰ مودودی کے اپنے مکان میں ہے۔ کیا وہ اس شہر میں یا اس ملک میں ہے جہاں وہ رہتے تھے۔ کیا وہ اس جماعت میں ہے جس کو انھوں نے قائم کیا اور چلایا۔ اس کا جواب ان حضرات کے پاس کچھ نہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے اس محبوب تخیل (سید مودودی کا عہد) کو بدستور لکھے اور چھاپے چلے جارہے ہیں۔ یہ مردہ قوم کی مخصوص علامت ہے کہ جس چیز کو وہ حقیقت میں نہ پائے اس کو وہ الفاظ میں پاکر کامیابی کا جشن مناتی ہے۔ موجودہ زمانہ کی تجدیدی تحریکوں کی ناکامی کی وجہ کیا تھی، اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ یہ تحریکیں تجدیدی تحریکیں تھیں ہی نہیں۔ تجدیدِ دین، ابدیت کی بنیاد پر اٹھنے کا نام ہے، جب کہ ان مسلم مفکرین کے پاس آخری سرمایہ صرف یہ تھا کہ وہ وقتی مسائل سے متاثر ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ تحریکیں دراصل ردعمل کی تحریکیں تھیں جن کو خوش خیال مفکرین نے بطور خود تجدیدی تحریک کا نام دے دیا۔
یہاں ہم اس سلسلہ میں صرف ایک مثال دیں گے۔ اسی مثال پر دوسرے مسلم مفکرین کو
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues