Al-Risala · July 1987 · page 22

دورِ جدید کی تحریکیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲

کو اہمیت دیتا ہے جو جدید سائنسی اسلوب میں ڈھال کر اس کے سامنے پیش کی جائے۔ اور جو چیز سائنسی اسلوب میں ڈھلی ہوئی نہ ہو وہ جدید انسان کو اپیل نہیں کرتی، وہ اس کے دل ودماغ میں اپنی جگہ نہیں بناتی۔

اس صورتِ حال کا تقاضا تھا کہ موجودہ زمانہ میں جدید اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ جو وقت کے علمی اور ادبی اسلوب کے مطابق ہو۔ اس کی اہمیت غیر مسلم قوموں کے لیے بھی تھی اور خود مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے بھی۔ مگر یہاں دوبارہ مسلمانوں کی ردِ عمل کی نفسیات رکاوٹ بن گئی۔ جدید علمی انداز یا نیا ادبی اسلوب پیدا کرنے والی قومیں عین وہی تھیں جن سے ہمارے مسلم رہنما نفرت میں مبتلا تھے۔ اور جن کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ان کی اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ توجہ اور دل جمعی کے ساتھ جدید اسلوب کو سمجھنے کی کوشش نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ وہ جدید اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔ دورِ جدید میں اسلام کے احیاء اور تجدید کے کام کی یہ ایک بنیادی ضرورت تھی۔ مگر کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود یہ ضرورت ابھی تک غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ لوگوں کے اندر اس کا شعور تک موجود نہیں۔ میری ملاقات ایک مشہور حلقہ کے ایک صاحب سے ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلمان ابھی تک یہ نہ کر سکے کہ وہ وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی لٹریچر تیار کریں۔ انھوں نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ فلاں عظیم شخصیت نے یہ کام انجام دیدیا ہے۔ ان کی کتابیں وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کر رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ مذکورہ شخصیت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ان سے چند سطر میں صرف یہ لکھوا کر بھیج دیجیے کہ "وقت کا فکری مستویٰ" کیا ہے اور اس سے کیا مراد ہے۔ مگر آج تک ان کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔

میں اردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس پورے دور میں مسلمانوں کا دینی طبقہ کوئی ایک بھی ایسی قابلِ ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکا جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ شخصیتوں سے عقیدت رکھنے والے کسی خوش فہم دماغ میں ایسی کتابوں کا وجود ہو سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page