دورِ جدید کی تحریکیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
ہے ، مگر حقیقی دنیا میں ایسے لٹریچر کا وجود نہیں ۔ اور اگر بالفرض کسی صاحب کو اصرار ہو کہ ایسی کتابیں موجود ہیں تو میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسی صرف ایک کتاب راقم الحروف کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔ اس کے بعد انشاء اللہ میں بتاؤں گا کہ اس کی حقیقت جدید اسلوب اور سائنٹفک طرز تحریر کے اعتبار سے کیا ہے، بشرطیکہ یہ کتاب کسی ذمہ دار شخص کی طرف سے ان کی اپنی تحریر کے ساتھ بھیجی گئی ہو ۔
۱۹۸۰ میں میری ملاقات امریکہ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص مسٹر اسٹیو اسکلر (Steve Sklar) سے ہوئی ۔ وہ فلوریڈا کے ایک عیسائی خاندان میں ۱۹۴۷ میں پیدا ہوئے ان کو تقابلی مطالعہ کا شوق ہوا ، اور انہوں نے تمام بڑے بڑے مذاہب سے متعلق کتا بیں پڑھ ڈالیں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں نے ان مسلم مصنفوں کی کتابوں کے انگریزی ترجمے پڑھے ہیں جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بڑے مفکر سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہ کتابیں میرے نزدیک بالکل کوڑا (Rubbish) ہیں۔ مغربی ملکوں میں ان کے ذریعہ سے اسلام کے تعارف کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ یہ انگریزی ترجمے زبان کے اعتبار سے ناقص ہیں۔ ان کی زبان جاندار زبان نہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر مضمون کے اعتبار سے بھی ان کتابوں میں ایسی کمیاں ہیں کہ وہ مغربی انسان پر کوئی گہرا اثر نہیں چھوڑ سکتیں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے چند باتیں بتائیں انھوں نے کہا کہ ان کتابوں کے پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا لکھنے والا مغرب کے خلاف شدید نفرت میں مبتلا ہے۔ وہ مغرب اور مغربی تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ ان کے اس مزاج کی وجہ سے ان کی کتابیں غیر سائنٹفک ہو کر رہ گئی ہیں ۔ ہندو مفکرین کی کتابوں میں اپنے مخاطب کے لیے محبت کا جذبہ ملتا ہے مگر موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین کی کتابوں میں کم از کم مغربی مخاطب کے لیے نفرت اور حقارت کے سوا اور کچھ نہیں ۔ چنانچہ ان کتابوں کی ایک کمی یہ ہے کہ ان میں غلط قسم کی تعمیم (Generalisation) پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ مغربی سوسائٹی سے کوئی منفرد اور استثنائی واقعہ لیں گے اور اس کو اس طرح بیان کریں گے گویا کہ یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت ہے ۔ مثلاً ایک مسلم مصنف نے اپنی کتاب
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues