Dr Wazir Singh
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲
۲۶ جون کی شام کو پہلی نشست ہوئی۔ اس نشست میں تعارف وغیرہ ہوا۔ باری باری ہر ایک شخص نے اپنا تعارف اور اپنے تجربات پیش کیے۔ اظہارِ خیال کی زبان صرف انگریزی تھی۔ متنوع تجربات نے اس مجلس کو کافی دل چسپ بنا دیا۔
ڈاکٹر راجن درورمانے بتایا کہ میں ایک مذہبی ہندو گھرانے میں پیدا ہوا۔ مگر تعلیم کے زمانہ میں غیر مذہبی قسم کا انسان بن گیا ۔ اس کے بعد دو بارہ جس چیز نے مجھے مذہب کی طرف لوٹایا وہ شاعری تھی۔ انھوں نے بتایا کہ میں مزید تعلیم کے لیے انگلینڈ گیا۔ وہاں میں نے ٹی ایس ایلیٹ کو پڑھا۔ ٹی ایس ایلیٹ ایک صوفی قسم کا شاعر ہے۔ وہ اپنے اشعار میں بار بار ویدانت کا حوالہ دیتا ہے ۔ ہندوستان میں ویدانت سے دور ہو چکا تھا مگر انگلینڈ میں ٹی ایس ایلیٹ نے مجھے دوبارہ ویدانت سے قریب کر دیا۔
میرا خیال ہے کہ یہی معاملہ ہر مذہب کا ہے ۔ اپنے مذہب کا اعتراف دوسروں کی زبان سے سننا ہر ایک کو بہت متاثر کرتا ہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ یہ دوسرا شخص ترقی یافتہ قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ مسلمانوں کی نسبت سے کرنے کا ایک اہم کام یہ ہے کہ غیر مسلموں نے اسلام کے اعتراف میں جو کچھ لکھا ہے ان کو جمع کر کے شائع کیا جائے ۔ یہ ایک نہایت قیمتی ذخیرہ ہے جو مختلف عالمی زبانوں میں موجود ہے ۔ اسی کے ساتھ نو مسلموں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے جو تاثرات لکھے ہیں وہ بھی بے حد قیمتی ہیں ۔ ان کو اگر جمع کر کے شائع کیا جاسکے تو دعوتی نقطۂ نظر سے نہایت جاندار لٹریچر تیار ہو جائے گا ۔
اس کانفرنس میں دو ملکوں کے پروفیسر صاحبان شریک تھے ۔ امریکہ اور ہندوستان ۔ امریکی پروفیسر مقابلہ زیادہ متحرک نظر آئے ۔ اس سلسلہ میں ایک دل چسپ واقعہ سنیے۔ کانفرنس کا انتظام اس طرح تھا کہ ایک بڑے ہال کے درمیان بہت سے میز چوکھٹے کی شکل میں بچھائے گیے تھے۔ ان کے درمیان خالی جگہ تھی اور اس خالی جگہ کے بیچ میں کچھ گملے رکھے ہوئے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مائک کے تار سے ٹکرا کر ایک گملہ گر گیا ۔ اگلے لمحہ میں نے دیکھا ایک سفید فام امریکی گملے کے پاس موجود ہے اور اس کو دوبارہ سیدھا کر کے اپنی جگہ پر رکھ رہا ہے۔ میں سوچنے لگا کہ وہ کس طرح اندر داخل ہوا۔ کیوں کہ گملے کے چاروں طرف میزوں کی چو کور دیوار بنی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues