Dr Wazir Singh
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳
ہوئی تھی اور اس میں کہیں " دروازہ " نہ تھا۔ یہ راز اس وقت کھلا جب مذکورہ امریکی اپنا کام کر کے واپس ہوا۔ اس نے اپنی میز کے نیچے سے اکڑوں حالت میں اندر جانے کا راستہ نکالا تھا۔ قدیم طرز کے علماء کے اجتماع میں آپ شرکت کریں تو ہر شخص اس طرح بولے گا گویا اس کو حقیقت کا آخری علم حاصل ہے۔ مگر جدید طرز کے اہل علم کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے ان کے اجتماع میں ہر آدمی اپنے کو گھٹا کر پیش کرتا ہے۔ یہ دور جدید کا اسلوب ہے۔ چنانچہ یہاں بولنے والوں کی زبان سے بار بار اس طرح کے فقرے سننے میں آئے :
I may be wrong. I dont know whether I am correct. کانفرنس کا انتظام بہت اچھا تھا۔ اس کی تمام فنی تفصیلات امریکہ (نیویارک) میں طے کی گئی تھیں ۔ چنانچہ فنی اور عملی پہلوؤں کے اعتبار سے وہ معیاری حد تک منظم تھی۔ مگر کانفرنس میں چوں کہ ہندوستان کے لوگ بھی شریک تھے اس لیے بار بار اس میں " ہندوستانیت " کا اظہار ہوتا تھا۔ مثلاً اظہارِ خیال میں لوگ حدود کی پابندی بہت کم کرتے تھے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کسی شخص کو اظہار خیال کی دعوت دیتے ہوئے صدر کو یہ کہنا پڑتا تھا : Please be brief and pointed. براہِ کرم مختصر بولیے اور موضوع پر بولیے۔
اس کانفرنس میں مختلف مذاہب کے تقریباً دو درجن افراد شریک ہوئے۔ ہر آدمی نے کسی متعین موضوع پر ایک مقالہ تیار کیا تھا۔ کارروائی کی صورت یہ تھی کہ ہر آدمی نے اولاً اپنا مقالہ کانفرنس کے امریکی دفتر میں بھیج دیا۔ وہاں منظور ہونے کے بعد مقالات کی فوٹو کاپی تیار کی گئی اور تمام شدہ کار کے نام ان کو پیشگی طور پر روانہ کر دیا گیا۔ ہر آدمی سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ تمام مقالات پڑھ کر آئے ۔
اجتماع میں صاحب مقالہ نے اپنا مقالہ پڑھ کر نہیں سنایا بلکہ ہر مقالہ کا ایک ریسپانڈنٹ (Respondent) تھا۔ کسی مقالہ کے بارہ میں سب سے پہلے یہی ریسپانڈنٹ بولتا تھا۔ وہ تنقیدی انداز میں مقالہ پر تقریر کرتا تھا۔ ریسپانڈنٹ کی تقریر کے بعد عمومی تبادلہ خیال ہوتا تھا۔ آخر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues