ہم کو مال کی ضرورت نہیں ، ہم کو جان کی ضرورت ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۷
پسندیدگی اور دینی معلومات میں اضافہ کا تاثر دیا۔ آپ کی آمد اور آپ کی تقریروں اور نصیحتوں نے یہاں الرسالہ کے مشن کو عملی جامہ پہنانے میں بہت مدد کی ہے۔ - ایک صاحب لکھتے ہیں : تین سال سے الرسالہ زیر مطالعہ ہے ۔ میں نے کئی بار چاہا کہ الرسالہ کے سلسلہ میں اپنے تاثرات آپ کو لکھوں ۔ مگر لکھنا ممکن نہ ہوا۔ اس کی وجہ غالباً الفاظ کی کمی تھی۔ انسان قطب مینار کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ " بہت اونچا ہے" ، یہی انسان جب ایورسٹ پہاڑ کو دیکھتا ہے تو دوبارہ یہی کہتا ہے کہ " بہت اونچا ہے" ، حالانکہ دونوں کی اونچائی میں بہت فرق ہے۔ لیکن انسان کیا کرے کہ یہ جاننے کے باوجود " بہت اونچا " سے زیادہ کوئی لفظ وہ کہہ نہیں پاتا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں الفاظ اپنے معنی کو کھو دیتے ہیں ۔ راقم الحروف نے جب بھی الرسالہ کے بارہ میں قلم اٹھانا چاہا تو الفاظ اپنی حیثیت کھوتے ہوئے نظر آئے ۔ اس کو الرسالہ جس بلندی پر نظر آیا اس کو کوئی نام دینے کے لیے میرے پاس لفظ نہ تھا۔ آج کل مسلم نوجوان عام طور پر جس ذہنی حالت میں ہیں اسی حالت کا آج سے تین سال قبل میں بھی شکار تھا۔ حقیقت سے کوسوں دور میرا ذہن خواب کی دنیا میں تھا جہاں نظام اعلیٰ قائم کرنے ، باطل کو طاقت کے زور پر مٹانے ، اپنے قومی پچھڑے پن کے خلاف حکومت سے احتجاج کرنے کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا تھا۔ میرے نزدیک جہاد یہی تھا اور میرے رہنما اور اسلام کے حقیقی خادم وہی تھے جو مذکورہ بالا باتوں کو لوگوں تک پھیلا رہے تھے ۔ اور اس پر عمل کی ترغیب دیتے تھے ۔ پچلا بیٹھ جانا ، خاموش رہ جانا ، معاف کر دینا ، برداشت کر لینا یہ سب چیزیں میری نظر میں قوم کی موجودہ حالت میں زہر تھیں ۔ نومبر ۱۹۸۳ میں بہ سلسلہ ملازمت پٹنہ آیا۔ برادرم اسلم جمالی صاحب اور برادرم کریم صاحب نے الرسالہ سے متعارف کرایا۔ الرسالہ کی باتوں کو ذہن نے فوراً مان لیا۔ الرسالہ کے مضامین میں سچائی نظر آتی مگر وہ کڑوی معلوم ہوتی۔ مگر یہ مضامین میرے مفروضات اور جذبات کو ایک ایک کر کے مٹاتے اور گرآتے چلے گیے ۔ کولمبس نے نئی دنیا دریافت کی تھی ۔ الرسالہ بھی میرے لیے ایک دریافت ہے ۔ اس دریافت نے ذاتی طور پر مجھے اتنا ہی متاثر کیا ہے جتنا کولمبس کی دریافت نے دنیا کو (شاہ واصف امام)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues