and raise him as a Muslim.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴
میں مقالہ نگار تمام اعتراضات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتا تھا اور اعتراضات کا جواب دیتا تھا۔
میرے مقالہ کے ریسپانڈنٹ ڈاکٹر آنند اسپنسر تھے ۔ اور خود مجھ کو ڈاکٹر راجندر ورما کے مقالہ کا ریسپانڈنٹ بنایا گیا تھا۔ اگلے صفحہ پر ایک فہرست دی جا رہی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ کانفرنس میں کتنے مقالہ نگار تھے اور کس شخص کو کس مقالہ نگار کا ریسپانڈنٹ بنایا گیا تھا۔
کانفرنس میں ایک صاحب نے گاندھی فلسفہ پر مقالہ پیش کیا ۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے گاندھی فلم کا ایک واقعہ بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس فلم کو پندرہ بار دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ گاندھیائی فلسفہ کو بہت خوبی کے ساتھ بتاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب دونوں طرف مار کاٹ ہورہی تھی۔ گاندھی جی نے برت رکھا ۔ انھوں نے اعلان کیا کہ جب تک مار کاٹ ختم نہیں ہوگی میں اپنا برت نہیں توڑوں گا۔ خواہ میں اسی حال میں مرجاؤں۔ اس دوران طرح طرح کے لوگ گاندھی جی سے ملنے کے لیے آئے ۔ ان میں سے ایک ہندو نوجوان بھی تھا۔ گاندھی جی کے برت نے اس کے ضمیر کو جگا دیا تھا۔ اس نے آکر کہا کہ باپوجی ، مجھے ایسا لگتا ہے میں نرک میں جاؤں گا۔ کیوں کہ میں نے ایک مسلمان بچہ کو مارا ہے۔ گاندھی جی نے جواب دیا کہ تم نرک میں جانے سے بچ سکتے ہو۔ تم ایسا کرو کہ ایک یتیم مسلمان بچہ کولے کر اس کی پرورش کرو اور اس کو ایک مسلمان کی حیثیت سے پال کر بڑا کرو ؛
and raise him as a Muslim.
مقرر نے کہا کہ یہ واقعہ گاندھی جی کے فلسفہ کو بہت خوبی کے ساتھ تیار رہا ہے ۔ کانفرنس کے شرکا میں ایک خصوصی شخصیت ڈاکٹر شیشاگری راؤ کی تھی ۔ وہ کولار (کرناٹک) کے باشندے ہیں ۔ مگر عرصہ سے امریکہ میں رہ رہے ہیں ۔ وہاں وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ موجودہ کانفرنس کی کئی نشستوں میں انھوں نے صدارت کا فریضہ انجام دیا۔ ایک بار اتفاقاً ختنہ کا ذکر آگیا ۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہر مذہب میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو سمجھ سے بالا تر ہیں۔ انھیں میں سے اسلام کا ختنہ کا طریقہ بھی ہے۔ ڈاکٹر شیشاگری راؤ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues