انسانیت انتظار میں ہے
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۶
اسباب سے مسلمانوں کے معاملات میں دل چسپی رکھتا ہوں ۔ میں نے امید کی تھی کہ ہندوستان کے مسلمان ۱۹۴۷ء کے سبق آموز تجربہ کے بعد، ایک اور راستہ کی طرف مڑ سکیں گے ، وہ اپنا علیحدہ تشخص اس میں پائیں گے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ تخلیقی ثابت کریں اور اس طرح وہ ہندستان کی نشأۃ ثانیہ کے نقیب بنیں ۔ تاریخ میں ایسا بہت بار ہوا ہے کہ ایک تخلیقی اقلیت ایک پوری قوم کو نئی زندگی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بن گئی ہے ۔ تبصرہ ہندستان کے ہندوؤں میں ، میرے اندازہ کے مطابق ، پچاس فیصد سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کے بارہ میں وہ مثبت اور خیر خواہانہ تصور رکھتے ہیں جس کا دو نمونہ اوپر کے اقتباس میں نقل کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات، خاص طور پر توحید اور مساوات، سے متاثر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام کی ان قدروں کو ملک میں فروغ دیا جائے ۔ کیوں کہ ان کے بغیر ملک کی حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی ۔ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ مسلمان اٹھیں اور اپنے اس تخلیقی کردار کو ادا کریں ۔ مسلمان امکانی طور پر پوری طرح اس کی استعداد رکھتے ہیں ۔ بلکہ وہی واحد گروہ ہیں جو اس قسم کا مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ کیوں کہ وہی وہ لوگ ہیں جن کے پاس خدا کی آفاقی تعلیمات کا غیر محرف ایڈیشن موجود ہے ۔
مسلمان بلاشبہ اس تاریخی کردار کو ادا کر کے موجودہ ماحول میں اپنے لیے باعزت جگہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ مگر اس کردار کو ادا کرنے کی ایک لازمی شرط ہے ۔ وہ شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو وقتی حالات سے اوپر اٹھائیں ۔ وہ یک طرفہ طور پر ہر قسم کی شکایتوں اور نا انصافیوں کو نظر انداز کر دیں ۔ وہ کھونے پر غم کرنا چھوڑ دیں اور محرومی کی تلخیوں کو بھلا دیں ۔ جس دن وہ ایسا کریں گے اسی دن وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ اس ملک میں وہ ایجابی رول ادا کر سکیں جس کا تاریخ کو صدیوں سے انتظار ہے ۔
یہی وہ قربانی ہے جس کو قرآن میں صبر کہا گیا ہے ، اور صبر کرنے والوں ہی کے لیے مقدر ہے کہ وہ قانون قدرت کے مطابق قوموں اور ملکوں کے قائد بنیں (وجعلنا منهم ائمة يهدون بامرنا لما صبروا)،
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues