محبت کی طاقت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۷
محبت کی طاقت
ارم م نام ماری توبہت بہت میاورین نام مابین کا کام هٔہ المکارم و مہینہ الموده سوامی رام تیر تھ (۱۹۰۶- ۱۸۷۳) نہایت قابل آدمی تھے۔ ان کا ایک بہت با معنی قول ہے : زندگی کے سب دروازوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے " کھینچو " مگر اکثر ہم اسے " دھکا " ہول ہے : رندی کے سب دروازوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے " بیچو دینا شروع کر دیتے ہیں ۔
سورام پرانے کتک کے نوآموز شاگرد کی طرح رنگ میں آنے کی کوشش کر "ترالرم ہم اے "دھکا سوامی رام تیر تھ روانی کے ساتھ انگریزی بولتے تھے ۔ وہ دھرم کے پرچار کے لیے ۱۹۰۳ میں امریکہ گیے ۔ ان کا جہاز سان فرانسسکو کے سمندری ساحل پہ لنگر انداز ہوا ۔ وہ اترے تو ایک امریکی از راہِ تعارف ان کے قریب آیا۔ اس کے بعد جو گفتگُو ہوئی وہ یہ تھی : آپ کا سامان کہاں ہے " امریکی نے پوچھا ۔
" میرا سامان بس یہی ہے " سوامی رام تیر تھ نے جواب دیا۔ " اپنا روپیہ پیسہ آپ کہاں رکھتے ہیں "
" میرے پاس روپیہ پیسہ ہے ہی نہیں "
" پھر آپ کا کام کیسے چلتا ہے "
" میں اس سے پیار کرتا ہوں اس کے پاس رہتا ہوں، اس سے میرا کام چلتا ہے "میں سب سے پیار کرتا ہوں ، بس اسی سے میرا سب کام چل جاتا ہے " تو امریکہ میں آپ کا کوئی دوست ضرور ہوگا “ ہاں ایک دوست ہے اور وہ دوست یہ ہے “ سوامی رام تیر تھ کا اور امریکہ کے دونوں بازو اور امریکہ کا ہر شخص اس گل سر میں ڈال دال دئے نامے کا مکان سوامی رام تیر تھنے یہ کہا اور اپنے دونوں بازو امریکی شخص کے گلے میں ڈال دیئے۔ امریکی ان کی اس بات سے بہت متاثر ہوا ۔ اس کے بعد وہ امریکی ان کا اتنا گہرا دوست بن گیا کہ وہ انھیں اپنے گھر لے گیا اور سوامی رام تیر تھ جب تک امریکہ میں رہے وہ برابر ان کے ساتھ رہا اور ان کی خدمت کرتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ ان کا شاگرد بن گیا۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑی طاقت ہے۔ محبت کے ذریعہ آپ اپنے مخالف کو جھکا سکتے ہیں اور ایک اجنبی شخص کو اپنا بنا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی محبت سچی محبت ہو، وہ دکھاوے اور نمائش کے لیے نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues