قومی شریعت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۱۱
قومی شریعت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانہ کی بابت بہت سی پیشگی خبراں کی تھیں جو حدیث کی کتابوں میں جمع کی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں جو روایات آئی ہیں ان کا ایک مجموعہ وہ ہے جن میں یہ پیشین گوئی دی گئی ہے کہ مسلمان بعد کے زمانہ میں ان طریقوں پر چلیں گے جو یہود و نصاری کے طریقے ہیں۔ یعنی وہ اپنی زبان سے اسلام کا نام لیں گے مگر عملاً ان کی روش وہ ہوگی جو یہود و نصاری کی روش ہے۔ اس سلسلہ کی ایک روایت یہاں نقل کی جاتی ہے :
عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَتَتَّبِعُنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ضرور سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا پچھلی امتوں کے پیچھے چلو گے، بالشت بالشت بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا حُجْرَ ضَبّ کہاور ہاتھ ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے لَتَبِعْتُمُوهُمْ - قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اَلْيَهُودُ بل میں گھسے ہوں تب بھی تم ان کی پیروی کرو وَالنَّصَارَى - قَالَ فَمَنْ ۔ گے ۔ ہم نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا اس (اخرجه البخاری ومسلم) سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ آپ نے فرمایا اور کون۔
قرآن میں یہود کی بہت سی "سنتیں" بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک سنت وہ ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ میں آیا ہے ۔ متعلقہ آیات کا ترجمہ یہ ہے :
اور جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا کہ تم اپنوں کا خون نہ بہاؤ گے ۔ اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالو گے۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہو ۔ پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو۔ اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو ، ان کے مقابلہ میں ان کے دشمنوں کی مدد کرتے کرتے ہو گناہ اور ظلم کے ساتھ ۔ پھر اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آتے ہیں تو تم فدیہ دے کر ان کو چھڑاتے ہو ۔ حالاں کہ خود ان کا نکالنا تمہارے اوپر حرام تھا ۔ کیا تم کتاب الہی کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو ۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues