سابق شاہ روس
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے دعوتی مصالح کے تحت بعض احکام میں لوگوں کے ساتھ وقتی طور پر نرمی اور رخصت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس کی ایک واضح مثال قبیلہ ثقیف کا معاملہ ہے۔ قبیلہ ثقیف (طائف) کا وفد رمضان ۹ھ میں مدینہ آیا اور اسلام قبول کیا۔ انھوں نے قبول اسلام کے لیے یہ شرط لگائی کہ وہ زکوٰۃ نہ دیں گے اور جہاد نہیں کریں گے۔ اس وقت زکوٰۃ اور جہاد کا حکم واضح طور پر قرآن میں آچکا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شرطوں کو منظور کر لیا، اور فرمایا کہ بعد کو وہ خود ہی اس پر بھی عمل کریں گے۔ اس سلسلہ میں ابوداؤد کی ایک روایت یہاں نقل کی جاتی ہے:
عن وہب، سألت جابرًا عن شأن ثقیفت وہب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے ثقیف اذ بابعُت ۔ قال : اشتَرَطَتْ عَلَی رسولِ اللہِ کے معاملہ میں پوچھا جب کہ انھوں نے بیعت کی صلی اللہ علیہ وسلم أن لاصدقة عليها تھی۔ انھوں نے کہا کہ ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ ولا جهاد، وإنّه سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ ان پر زکوٰۃ نہ ہوگی عليه وسلم يقول بعد ذلك: “سيتصدقون اور نہ ان پر جہاد ہوگا ۔ اور یہ کہ انھوں نے اس و يجاهدون إذا أسلموا ۔ “ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سیرہ ابن کثیر، جلد م ، صفحه ۵۶ سنا: جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو آئندہ وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے ۔
اسلام کے مستقل احکام وہی ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ یہ احکام بلاشبہ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر مطلوب ہیں۔ مگر مخصوص حالات میں کسی شخص کے ساتھ وقتی طور پر رخصت اور رعایت کا طریقہ اختیار کرنا بھی خود اسلام ہی کا تقاضا ہے۔
دعوت کے معاملہ میں خاص طور پر اس کا بہت زیادہ لحاظ کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں کسی شخص یا قوم کا داخلہ ایک تدریجی عمل ہے۔ حکمتِ دعوت اسی تدریج کو ملحوظ رکھنے کا دوسرا نام ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے اسی تدریج کی حکمت کو اختیار کر کے ایک عالم میں اسلام کو پھیلا دیا۔ بعد کے زمانہ میں جب مسلمان اس حکمت کو بھول گئے تو اسلام کی اشاعت کا کام بھی رک گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues