تاریخ دعوت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۱۷
تاریخ دعوت
مسلمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔ مسلمانوں کی یہی حیثیت یہ متعین کر رہی ہے کہ بحیثیت امت ان کی ذمہ داری موجودہ دنیا میں کیا ہے۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام انجام دیں جس کے لیے پچھلے زمانہ میں رسول آیا کرتے تھے۔ رسول کا آنا بلاشبہ ختم ہو گیا۔ مگر رسول کا کام بلاشبہ جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ کارِ نبوت سے کم تر درجہ کا کوئی کام ان کی حیثیتِ امت کے تحقق کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔
رسول کا کام کیا ہے ۔ رسول کا کام اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانا ہے۔ شرک میں مبتلا لوگوں کو توحید کا پیغام دینا ہے ۔ جو لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں ، انھیں آخرت کے آنے والے دن سے باخبر کرنا ہے۔ ہر شخص کو یہ بتانا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ آزاد نہیں ہے کہ جو چاہے کرے۔ وہ خدا کے احکام کے ماتحت ہے۔ اسے پابند زندگی گزارنی ہے نہ کہ آزاد زندگی ۔ قرآن وسنت کی صورت میں جو علمِ ربانی محفوظ ہے اس کو تمام لوگوں تک اس طرح پہنچانا ہے کہ آخرت میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ میں اس سے بے خبر تھا۔
یہی امت مسلمہ کا اصل منصبی فریضہ ہے۔ مگر یہی وہ سب سے بڑا فریضہ ہے جس کو موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ چھوڑے ہوئے ہیں۔ اس چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ صرف ایک ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ذہن پر ان کے قومی مسائل چھائے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتی مسائل ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔
عرب دنیا کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی ۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا کہ مسلمانوں کا اصلی فرض یہ ہے کہ وہ غیر مسلم اقوام تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ انھوں نے فوراً جواب دیا : آج کے مسلمانوں کو تو خود اپنے مسائل سے فرصت نہیں، پھر وہ دوسری قوموں میں دعوت کا کام کس طرح کر سکتے ہیں ۔
مذکورہ جواب اس نفسیات کو بتاتا ہے جس کے تحت موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے عمومی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues