Al-Risala · August 1987 · page 20

دعوت کے ذریعہ تحفظ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰

دعوت کے کام کو یکسر چھوڑ رکھا ہے ۔ ان پر اپنے تحفظاتی مسائل کا غلبہ ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بحیثیت قوم ان کا وجود خطرہ میں ہے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ساری توجہ دفاع کے محاذ پر لگا دی ہے۔ یہ فکر ان کے اوپر اتنا زیادہ چھایا کہ دعوت کی ذمہ داریوں کا احساس ان کے اندر سے نکل گیا ۔ حتیٰ کہ بہت سے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دفاعی کام ہی کو " اسلامی دعوت " کا نام دے دیا ہے ۔

یہ سراسر غیر اسلامی اور غیر قرآنی ذہن ہے ۔ کیوں کہ قرآن کی رو سے مسلمانوں کے تحفظ کا مسئلہ بھی خود اسی دعوتی کام سے وابستہ ہے ۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کا کام کریں تو خدا کی طرف سے ان کے قومی تحفظ کی بھی ضمانت ہے ۔ اور اگر وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ کریں تو ان کے قومی تحفظ کی بھی کوئی ضمانت نہیں ۔ ماضی کی تاریخ پہلی بات کا ثبوت ہے اور مسلمانوں کی حال کی تاریخ دوسری بات کا ثبوت ۔

دعوت کے ذریعہ تحفظ

یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک اے پیغمبر ، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب من ربك وان لم تفعل فما بلغت کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچا دو۔ اور اگر رسالته ـ والله يعصمك من الناس تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں ان الله لا يهدي القوم الكفرين پہونچایا ۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا (المائدہ ۶۷)

الّا یہ کہ منکر لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا ۔

اس آیت کے شانِ نزول کے سلسلہ میں کئی روایتیں حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں ۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب مجھ کو اپنے پیغام کے ساتھ بھیجا تو میں نے اپنے اندر اس کے لیے تنگی محسوس کی ۔ اور مجھے خیال ہوا کہ لوگوں میں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں گے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کی جاتی تھی۔ حتی کہ یہ آیت اتری۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرہ سے سر نکالا اور فرمایا کہ اے لوگو واپس جاؤ ۔ کیوں کہ اللہ نے مجھ کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے (صفوة التفاسیر ، المجلد الاول ، صفحه ۳۵۵)

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page