and raise him as a Muslim.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶
اس گفتگو کو سن رہے تھے ۔ بنداز وہ سمجھ نہ سکے کہ " ختنہ " کیا چیز ہے ۔ تاہم کچھ دیر کے بعد انھوں نے سمجھ لیا۔ انھوں نے کہا : آپ کی مراد غالباً Circumcision سے ہے۔ کہا گیا کہ ہاں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو بہت عمدہ چیز ہے ۔ میں نے خود اپناختنہ کروایا ہے۔ صحت کے اعتبار سے یہ طریقہ نہایت عمدہ ہے ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ مسلمان نہ ہوتے ہوئے بھی ختنہ کرا لیتے ہیں ۔ ڈاکٹر شیشا گری کی زبان سے یہ بات سن کر سب لوگ چسپ ہو گئے ۔
پارسی مذہب کے نمائندہ (ڈاکٹر دو می دھلا) نے کہا کہ پارسی مذہب ایک غیر تبلیغی مذہب ہے ۔ پارسیوں کا خیال ہے کہ اگر ہم دوسروں کا مذہب بدل کر انھیں اپنے مذہب میں داخل کریں تو اس سے ہمارے مذہب کی (Purity) متاثر ہو جائے گی ۔ اس طرح پارسی مذہب واحد مذہب ہے جو سماج کو غیر ضروری جھگڑوں سے بچاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارسی مذہب نے پارسیوں کے اندر غیر معمولی تعمیری استعداد پیدا کی ہے ۔ ہندوستان میں مذہبی تشدد نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پارسیوں کو موقع ملا اور انھوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں زیر دست حصہ لیا ۔ اس کے برعکس ایران میں بھی کچھ پارسی ہیں مگر وہاں مسلمانوں کے مذہبی تشدد کی وجہ سے پارسی ملکی خدمت کا کوئی نمایاں کام نہ کر سکے ۔
ہندو مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ " انسانی اخوت سب سے زیادہ ہندو ازم کے ذریعہ پیدا ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ ہندو ازم وحدت حقیقت میں یقین رکھتا ہے ۔ جب کہ دوسرے کئی مذاہب ثنویت کو مانتے ہیں ۔ اس طرح ہر مذہبی گروہ نے بطورِ خود ایک معیار بنا رکھا ہے ۔ اور اس معیار کے خانہ میں اپنے آپ کو رکھ کر خوش ہیں کہ ہمارا مذہب سب سے زیادہ اعلیٰ مذہب ہے ۔ مسلمانوں کا حال بھی اس معاملہ میں کچھ مختلف نہیں ۔ انھوں نے بھی اپنے حسب حال کچھ معیار تلاش کر لیے ہیں اور یہ عقیدہ بنا کر خوش ہیں کہ ہمارا مذہب سب سے افضل مذہب ہے ۔ ہر ایک صرف اپنی بڑائی کو پا کر نازاں ہے ۔ خدا کی بڑائی کو پا کر سرشار ہونے والا کوئی نہیں ۔
اس سفر کے دوران بہت سی دل چپ ملاقاتیں ہوئیں ۔
ایک غیر مسلم اسکالر سے میں نے کہا کہ اصلًا تمام مذاہب ایک ہی تھے ۔ مگر بعد کے زمانوں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues