Al-Risala · January 1987 · page 37

and raise him as a Muslim.

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۷

میں جو بگاڑ ہوا۔ اس نے اصلی مذہبی تعلیمات کو کچھ سے کچھ کر دیا۔ مثلاً انسان کے مقام کو لیجیے، ہندو عقائد میں انسان کو نیچی ذات اور اونچی ذات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ عیسائیت میں سارے انسان پیدائشی گنہگار ہیں۔ یہودیت میں خدا کا سارا انعام واکرام ایک خاص نسل (بنی اسرائیل ) کے لیے مخصوص ہے۔ مگر اسلام محفوظ مذہب ہے ۔ اس لیے اسلام میں کوئی ایسی چیز نہیں ۔ انھوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انسان کا احترام جو اسلام میں ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا۔

ایک ہندو پروفیسر سے توحید کے موضوع پر بات ہو رہی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ توحید کا تصور صرف اسلام کی خصوصیت نہیں ۔ توحید کا تصور ویدوں اور اپنشدوں میں بھی موجود ہے میں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق یہ بات صحیح نہیں ۔ اسلام میں خدا کا تصور یہ ہے کہ وہ ہم سے الگ ایک مستقل ہستی رکھتا ہے ۔ جب کہ ویدوں کا تصور خدا ، ہندو شارحین کے مطابق " ادویت واد " ہے۔ یعنی یہ کہ خدا اور دوسری موجودات سب کے سب ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں ۔ جب کہ اسلام میں خالق الگ ہے اور مخلوق الگ ۔

میں نے کہا کہ ایک بار میں دہلی کے ایک اجتماع میں ایک ہندو عالم کی تقریر سن رہا تھا۔ جو اسی خاص موضوع پر تھی ۔ انھوں نے ہندو عقیدہ خدا کو واضح کرتے ہوئے کہا : سو دیر از نو ڈفرنس بٹوین جی او ڈی اینڈ ڈی او جی مذکورہ ہندو پروفیسر یہ سن کر مسکرائے اور خاموش ہوگیے ۔ بظاہر ان کی خاموشی اس بات کا اعتراف تھی کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ بطور واقعہ درست ہے ۔

ڈاکٹر مہندر سنگھ (ڈائرکٹر گرو نانک فاؤنڈیشن نئی دہلی ) سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ بابا گرو نانک کے یہاں وحدانیت کا جو تصور پایا جاتا ہے اس کا ماخذ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آج کل کچھ اسکالر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کا ماخذ وید اور اپنشد ہیں۔ مگر خالص علمی اعتبار سے یہ درست نہیں۔ میں نے کہا کہ گرو نانک کے یہاں واضح طور پر توحید (Monotheism) کا تصور ہے ، جب کہ وید اور اپنشد میں جو چیز پائی جاتی ہے وہ وحدت وجود (Monism) ہے ۔ اس لیے گرو نانک کا وحدانیت کا عقیدہ اسلام سے ماخوذ ہو سکتا ہے ، وہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page