Al-Risala · August 1987 · page 21

دعوت کے ذریعہ تحفظ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۱

اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ رسول کے لیے حفاظت کا مسئلہ ہو تو اس کا الگ سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں، دعوت کا عمل ہی اس کی حفاظت کا بھی ضامن ہے۔ اللہ کا یہ وعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصلاً تھا اور آپ کی امت کے لیے یہ وعدہ تبعاً ہے۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے جس کی روشنی میں ہمیں اپنے معاملات کو دیکھنا چاہیے۔ دوسری اقوام کی طرف سے جب بھی اہل اسلام کے لیے حفاظت کا مسئلہ پیدا ہو تو اس کا سبب یہی ہوگا کہ امت نے دعوت الی اللہ کے فریضہ کو چھوڑ دیا ہے۔ اور جب امت دعوت الی اللہ کے فریضہ کے لیے اٹھے تو اس کو یقین رکھنا چاہیے کہ بقیہ تمام خطرات اور اندیشے کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے۔ بقیہ خطرات کے لیے الگ سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ دعوت الی اللہ کا کام کیجئے، اور بقیہ تمام خطرات کے دفعیہ کی صورتیں اپنے آپ پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔

دعوت سے یہاں مراد غیرمسلموں میں دعوت ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا جو ابھی اللہ کے حلقۂ اطاعت میں داخل نہیں ہوئے ۔ قرآن میں دعوت یا تبلیغ کا لفظ جہاں بھی آیا ہے غیر مسلموں ہی میں دعوت پہنچانے کے لیے آیا ہے۔ مسلمانوں کے اندر جو کام کرنا ہے اس کے لیے قرآن میں تذکیر، اصلاح، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ الفاظ آئے ہیں۔ مسلمانوں کی دینی اصلاح کے کام کو مجازی طور پر دعوت اور تبلیغ کہا جاسکتا ہے، مگر دعوت اور تبلیغ کا لفظ اصلاً جس دینی کام کا عنوان ہے وہ غیر مسلم اقوام تک خدا کا پیغام پہنچانا ہے نہ کہ مسلمانوں کی داخلی اصلاح کرنا ۔

قرآن میں حضرت موسیٰ کے زمانہ کے ایک "رجل مومن " کا ذکر ہے۔ یہ فرعون کے دربار کا ایک شخص تھا جو اپنے ایمان کو بربنائے مصلحت چھپائے ہوئے تھا۔ مگر ایک وقت آیا جب کہ فرعون نے اپنے اس فیصلہ کا اعلان کیا کہ وہ حضرت موسیٰ کو قتل کر دینا چاہتا ہے۔ اس وقت یہ رجل مومن خاموشی کو برداشت نہ کر سکا۔ وہ حضرت موسیٰ کی حمایت میں بول پڑا اور فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے ایک پوری دعوتی تقریر کر ڈالی۔

یہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ کیوں کہ فرعون نے جب حضرت موسیٰ کے ساتھ اپنی دشمنی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page