اسلام عمر بن الخطاب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۵
کہ کے مشرکین کو جب یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ کے ساتھی حبش چلے گئے ہیں اور وہاں اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں تو انھوں نے مشورہ کر کے اپنے دو آدمیوں (عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ) کوحبش کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا۔ انھوں نے وہاں جا کر شاہ نجاشی اور اس کے درباریوں کو تحفے پیش کیے اور کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ اپنا آبائی دین چھوڑ کر تمہارے یہاں آگئے ہیں۔ ان کو ہمارے حوالے کر دو کہ ہم انھیں اپنے ساتھ واپس لے جائیں۔ یہ ایک طویل قصہ ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شاہ نجاشی کے درباری مشرکین مکہ کے وفد کی باتوں سے متاثر ہو گئے اور انھوں نے شاہ سے یہ سفارش کی کہ مسلمانوں کو دوبارہ مکہ واپس بھیج دیا جائے۔ یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ کیوں کہ واپسی کا مطلب بھیڑیوں کے منہ میں واپس جانا تھا۔ مگر اس نازک لمحہ میں جو چیز مسلمانوں کے کام آئی وہ وہی " دعوت" تھی جس کو یہ بے سروسامان لوگ اپنے ساتھ لے کر وہاں گئے تھے۔
چنانچہ آخری مرحلہ میں یہ طے ہوا کہ مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوں اور بتائیں کہ وہ دین کیا ہے جو انھیں پیغمبر عربی سے ملا ہے ۔ اس وقت حضرت جعفر بن ابی طالب کھڑے ہوئے ۔ انھوں نے دربار میں ایک تقریر کی جو سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے بعد حضرت جعفر نے قرآن سے سورہ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس کو سن کر بادشاہ اور اس کے درباریوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ حتیٰ کہ بادشاہ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی ۔ اس کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا کہ مشرکین مکہ کا وفد جو تحفے لایا تھا وہ اسے واپس کر دیا جائے۔ اس نے مسلمانوں کو عزت کے ساتھ اپنے دربار سے رخصت کیا۔ ان کو امان دی اور مشرکین کے دونوں آدمی ذلیل ہو کر وہاں سے نکلے اور مسلمان وہاں اچھے مقام اور اچھے پڑوس میں ٹھہرے رہے (ورَدَّ المسلمين رداً كريماً وأمنهم وخرجا (عبد الله بن ابی ربیعہ وعمرو بن العاص) من عنده مقبوحين - فأقام المسلمون بخير دار مع خير جار)
اسلام عمر بن الخطاب
نبوت کے چھٹے سال تک مکہ کی ایک قابلِ لحاظ تعداد اسلام کے حلقہ میں داخل ہو چکی تھی مگر یہ لوگ زیادہ تر نیچے کے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے مکہ میں ابھی تک اسلام کا دبدبہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues