اسلام عمر بن الخطاب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶
قائم نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ دروازہ بھی پہلی بار دعوت ہی کے ذریعہ سے کھلا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دعا فرمائی کہ اے اللہ! عمر بن الخطاب یا عمروبن ہشام کے ذریعہ اسلام کو طاقت دے (اللہم اعز الاسلام باحد العمرین) اس کے بعد حالات بڑھتے رہے یہاں تک کہ مکہ کے سردار ابو جہل نے یہ اعلان کیا کہ جو شخص محمد کو قتل کر ڈالے اس کو میں سو اونٹ دوں گا۔ عمر بن خطاب مکہ کے نہایت طاقتور اور پہلوان قسم کے آدمی تھے۔ انھوں نے تلوار ہاتھ میں لی اور اس ارادہ سے گھر سے روانہ ہوئے کہ رسول اللہ کو قتل کر کے ایک سو اونٹ حاصل کریں ۔
وہ جا رہے تھے کہ راستہ میں یہ معلوم ہوا کہ ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید دونوں اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ عمر کو یہ سن کر غصہ آگیا۔ وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے اور بہن اور بہنوئی کو مارنا شروع کیا۔ بہن نے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے! تم جو کچھ کر سکتے ہو کرو، ہم تو اب اسلام قبول کر چکے ہیں۔ اس کے بعد عمر کچھ نرم پڑے ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ وہ دین کیا ہے جس کو تم نے اختیار کیا ہے۔ انھوں نے ایک صحیفہ ان کے ہاتھ میں رکھ دیا جس میں قرآن کی سورہ طہ' لکھی ہوئی تھی ۔ عمر نے اس کو پڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ ان کی زبان سے نکلا : ما احسن هذا الکلام (اکرمہ اکیسا اچھا اور برتر یہ کلام ہے)
خلاصہ یہ کہ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عمر اپنے زمانہ میں مکہ کے نہایت طاقتور آدمی تھے ۔ ان کا قد اتنا بلند تھا کہ مسجد نبوی (مدینہ) بننے کے بعد جب وہ اس میں داخل ہوئے تو ان کا سر دروازہ سے ٹکرا گیا۔ ایسے شخص کا اسلام کے حلقہ میں داخل ہونا بلاشبہ اسلام کی عظیم الشان مدد تھی۔ اور اسلام کو یہ عظیم الشان مدد دعوت کے راستہ سے حاصل ہوئی ، حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ عمر کا اسلام ایک فتح تھا۔ ہم کعبہ کے پاس نماز نہیں پڑھ سکتے تھے یہاں تک کہ عمر نے اسلام قبول کیا۔ جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو انھوں نے مشرکین مکہ سے لڑائی کی۔ یہاں تک کہ انھوں نے خود بھی کعبہ کے پاس نماز پڑھی اور ہم نے بھی ان کے ساتھ نماز پڑھی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues