مدینہ میں اسلام کی اشاعت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸
آتے ہو راے قوم هذا والله خير مـما جئتم له) تاہم اس وقت انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا اور مدینہ واپس چلے گئے ۔
اس کے بعد زیارتِ کعبہ کا زمانہ آیا اور عرب کے مختلف قبیلے مکہ آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان قبائل کے پاس گئے اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ اس سلسلہ میں عقبہ کے پاس آپ کی ملاقات قبیلہ خزرج (مدینہ) کے چھ آدمیوں سے ہوئی ۔ جس میں اسعد بن زرارہ اور دوسرے لوگ شامل تھے ۔ ابتدائی گفتگو کے بعد آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ یہ لوگ مدینہ کے یہود سے یہ سنتے آئے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں ان کا زمانہ قریب آگیا ہے ۔ خزرج کے لوگوں نے آپ کا پیغام سن کر پہچان لیا کہ یہ وہی نبی ہیں۔ انھوں نے آپس میں کہا کہ اے قوم ، خدا کی قسم یہی وہ پیغمبر ہیں جن کے بارے میں یہود تمہیں بتا رہے تھے۔ تو یہود اس کے بارے میں تم پر سبقت نہ کرنے پائیں۔ چنانچہ انھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ۔ قال بعضهم لبعض يا قوم تعلمون والله انه النبی الذي توعدكم به اليهود فلا تسبقنكم اليه فاجابوه وصدقوه واسلموا ۔
مدینہ میں اسلام کی اشاعت
یہ لوگ اسلام کے بعد مدینہ واپس ہوئے اور وہاں کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ہر گھر میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ اگلے سال موسم حج میں دوبارہ مدینہ کے ۱۲ آدمی مکہ آئے ۔ یہ لوگ اسلام سے متاثر ہو چکے تھے ۔ انھوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت اسلام قبول کرنے کے ساتھ آپ کی حمایت کرنے کی بیعت بھی تھی ۔ چنانچہ اس کو بیعت النساء کہا جاتا ہے ۔ اس کا دوسرا نام تاریخ اسلام میں بیعت عقبہ اولیٰ ہے ۔
یہ لوگ مدینہ واپس ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا تاکہ وہ مدینہ کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کریں اور قرآن سنائیں اسی لیے ان کو مدینہ میں مقری (پڑھ کر سنانے والا) کہا جاتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues