مدینہ میں اسلام کی اشاعت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹
اس وقت مدینہ کے ایک نمایاں سردار اسید بن حضیر تھے ۔ ان کو مدینہ میں اسلام کی اشاعت کی خبر ہوئی تو وہ اس پر غصہ ہوگئے ۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ مکہ کے کچھ لوگ یہاں آکر ہمارے کم سمجھ لوگوں کو بہکا رہے ہیں اور ان کے آبائی دین سے انھیں پھیر رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر سے ہتھیار لے کر نکلے تاکہ ایسے لوگوں کو مار کر بھگا دیں ۔
ان کی ملاقات ایک باغ میں مصعب بن عمیر سے ہوئی جو کچھ لوگوں کو اسلام کی باتیں بتا رہے تھے ۔ اسید بن حضیر نے انھیں بُرا بھلا کہا اور کہا کہ تم یہاں اس لیے آئے ہو کہ ہمارے کمزور لوگوں کو ان کے دین سے پھیرو ۔ مصعب بن عمیر نے کہا کہ آپ بیٹھئےاور ہماری بات سنیے ۔ اگر وہ صحیح ہو تو اس کو مان لیجیے ، اور اگر صحیح نہ ہو تو اسے رد کر دیجیے ۔ اسید بن حضیر نے کہا کہ تم نے انصاف کی بات کہی (انصفت)
اس کے بعد وہ اپنا ہتھیار الگ رکھ کر بیٹھ گئے ۔ مصعب بن عمیر نے ان کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھیں ۔ اس کو سُن کر اسید بن حضیر کا ذہن بدل گیا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتنا اچھا اور کتنا حسین کلام ہے (ما احسن هذا و اجملہ) اس کے بعد انھوں نے غسل کر کے اپنے کو پاک کیا اور کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام میں داخل ہوگئے ۔
تقریباً یہی واقعہ مدینہ کے دوسرے بڑے سردار سعد بن معاذ کے ساتھ پیش آیا ۔ ان کو مدینہ میں اسلام کی اشاعت کی خبر ہوئی ۔ ابتدا ئ وہ بھی غصہ ہوئے۔ ۔ اور اپنا ہتھیار لے کر نکلے تاکہ ایسے لوگوں کو تنبیہ کر دیں ۔ وہ مصعب بن عمیر کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا کہ آپ پہلے میری بات سنیے اس کے بعد کوئی فیصلہ کیجیے ۔ اس کے بعد انھوں نے سعد بن معاذ کو قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا ۔ راوی کہتے ہیں کہ قرآن کو سنتے ہی ہم نے ان کے چہرے پر اسلام کی جھلک دیکھی ۔ فعرفنا والله في وجهه الاسلام) اس کے بعد انھوں نے پوچھا کہ اس دین میں داخل ہونے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے ۔ مصعب بن عمیر نے کہا کہ آپ غسل کیجیے اور اپنے کپڑوں کو پاک کیجیے اس کے بعد حق کی گواہی دیجیے پھر دو رکعت نماز پڑھیے ۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام میں داخل ہوگئے ۔
اس کے بعد دونوں سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر اپنے قبیلہ کی طرف واپس آئے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues