مدینہ میں اسلام کی اشاعت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱
میں لینے سے انکار کر دیا۔
یہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ تھا۔ کیوں کہ قبیلہ کی حمایت سے محرومی کا مطلب یہ تھا کہ آدمی کی جان و مال دوسروں کی نظر میں مباح ہو جائے۔ چنانچہ اس کے بعد آپ کے مخالفین آپ کے اوپر جری ہو گئے ۔ سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ ابو طالب کی زندگی تک قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہ کر سکے۔ مگر جب ابو طالب کی وفات ہو گئی تو وہ آپ کے خلاف جارحیت کرنے لگے یہاں تک کہ قریش کے بعض نادانوں نے آپ کے سر پر مٹی ڈال دی ۔
مکہ میں قیام بظاہر اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ناممکن ہو گیا تھا۔ عین اس وقت دعوت کے ذریعہ ایک نیا شاندار امکان آپ کے لیے نکل آیا۔ نبوت کے گیارہویں سال مدینہ کے چند آدمی کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ آئے اور آپ کے پیغام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا ۔ اس کے بعد اگلے سال مزید کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے آپ کی زبان سے قرآن سنا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے۔ یہ لوگ جب واپس ہونے لگے تو ان کے ساتھ مکہ سے دو آدمی (عبداللہ بن ام مکتوم اور مصعب بن عمیر) قرآن اور اسلام کی تعلیم کے لیے بھیجے گئے ۔ مدینہ پہنچ کر انھوں نے لوگوں کو قرآن سنانا شروع کیا ۔ اور اسلام کی تعلیم سے لوگوں کو آگاہ کرنے لگے۔ مدینہ کی زمین اسلام کی دعوت کے لیے نہایت زرخیز ثابت ہوئی ۔ وہاں کے لوگ تیزی سے اسلام قبول کرنے لگے ۔ حتیٰ کہ یہ نوبت آگئی کہ اسلام مدینہ کے تمام محلوں میں پھیل گیا۔ انصار مدینہ کے گھروں میں سے کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں کچھ مرد اور کچھ عورت مسلمان نہ ہو گئے ہوں (وجعل الاسلام يفشو في منازل الانصار۔ حتى لم تبق دار من دور الانصار الا وفيها رجال و نساء مسلمون)
مدینہ کی فضا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے موافق دیکھا تو آپ نے مکہ کے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ خاموشی کے ساتھ مدینہ چلے جائیں۔ چنانچہ وہ لوگ ہجرت کرنے جانے لگے ۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت مکہ سے مدینہ منتقل ہو گئی۔ مکہ کے مشرکین نے اس صورت حال کو اپنے خلاف ایک چیلنج سمجھا۔ انھوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہ لوگ مدینہ کو اپنا مرکز بنا کر دوبارہ ہمارے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues