Al-Risala · August 1987 · page 32

حدیبیہ کے بعد اشاعت اسلام

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

خلاف کارروائی کریں گے ۔ انھوں نے طے کیا کہ قبل اس کے مدینہ کے مسلمان کوئی کارروائی کریں پیغمبر اسلام کو قتل کر دیا جائے ۔ مگر اب معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا ۔ جس رات کو وہ آپ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے تھے عین اسی رات کو آپ مکہ سے نکل کر مدینہ پہونچ گئے ۔ اس کے بعد مدینہ میں اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہوئی اور اس نئی تاریخ کا دروازہ جس چیز نے کھولا وہ بلاشبہ دعوت تھی ۔

حدیبیہ کے بعد اشاعت اسلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً ۱۳ سال مکہ میں رہے ۔ اس کے بعد آپ مکہ والوں کی شدید مخالفت کی بنا پر مکہ سے مدینہ چلے گئے ۔ مگر مکہ کے مشرکین کا غصہ اب بھی ختم نہ ہوا ۔ انھوں نے سمجھا کہ اگر انھوں نے مسلمانوں کو اسی طرح چھوڑ دیا تو وہ طاقت ور ہو جائیں گے اور ایک روز مکہ پر حملہ کر دیں گے ۔ چنانچہ انھوں نے خود پہل کر کے اہل اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ بدر و اُحد جیسی کچھ بڑی جنگیں ہوئیں اور زیادہ تر چھوٹے مقابلے ہوئے جن کو جھڑپ کہا جا سکتا ہے ۔ ان کی مجموعی تعداد تقریباً ۸۰ تک پہونچتی ہے ۔

ایک کے بعد ایک جنگیں ہوتی رہیں ۔ مگر اہل شرک اور اہل توحید کے درمیان فیصلہ نہیں ہوتا تھا ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گہرا دعوتی منصوبہ بنایا ۔ یہ دعوتی منصوبہ وہی ہے جس کو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ (۶ھ) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس کی تفصیلات حدیث کی تمام کتابوں میں مذکور ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ مختلف واقعات کے بعد وہ مرحلہ آیا جب کہ مقام حدیبیہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح کی بات چیت شروع ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیش کش کی کہ آپ کے اور مشرکین کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (No-war pact) ہو جائے ۔ مشرکین مکہ سے اس موضوع پر گفت گو شروع ہوئی تو انھوں نے اس نا جنگ معاہدہ پر راضی ہونے کے لیے بالکل یک طرفہ قسم کی شرطیں پیش کیں ۔ مثلاً یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب عمرہ کیے بغیر مقام حدیبیہ سے مدینہ واپس چلے جائیں ۔ قریش کا کوئی آدمی مسلمانوں کے یہاں چلا جائے تو مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے ۔ اس کے برعکس کوئی مسلمان مدینہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page