Al-Risala · August 1987 · page 36

سلجوق ترکوں کا قبول اسلام

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶

اسی طرح پروفیسر آرنلڈ نے دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ مصریوں کا قبول اسلام کسی سیاسی یا فوجی جبر کا نتیجہ نہ تھا :

These conversions were not due to persecutions (110). اب سوال یہ ہے کہ جب اہل مصر پر تبدیلی مذہب کے لیے جبر نہیں کیا گیا تو کیوں کر ایسا ہوا کہ ان کی بہت بڑی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کا جواب مصریات کے ماہر سر آر تھر کیتھ نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ ــــــــ مصر کے عیسائی تلوار سے فتح نہیں کیے گیے بلکہ قرآن کے ذریعہ فتح کیے گئے :

The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. Sir Arthur Keith, A New Theory of Human Evolution, London, Watts & Co. 1950, p. 303. یہی صورت تمام مفتوحہ ممالک میں پیش آئی۔ ان ملکوں کی غیر مسلم آبادی کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے کسی قسم کا جبر نہیں کیا گیا۔ یہ صرف اسلام کی دعوتی طاقت تھی جس نے انھیں مسخر کر لیا اور وہ بہت تھوڑے عرصہ میں اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گیے۔ جو مسلمان ان کے ملک میں داخل ہوئے تھے ان سے روزانہ کے میل جول میں وہ اسلام کی باتیں سنتے تھے۔ اسی طرح انھوں نے اسلامی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس سے ان پر یہ بات کھلی کہ ان کے آبائی مذہب کے مقابلہ میں اسلام زیادہ معقول ہے۔ اس کی تعلیمات زیادہ سادہ اور قابل عمل ہیں۔ اس تاثر کے تحت وہ دھیرے دھیرے اسلام قبول کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت مسلمان ہو گئی اور جغرافی نقشہ پر وہ دنیا وجود میں آئی جس کو اسلامی دنیا کہا جاتا ہے۔

سلجوق ترکوں کا قبول اسلام

سلجوق ، ترکان غزن کے ایک سردار کا نام تھا۔ اس نے قبائل کی ایک فوج جمع کی اور گیارہویں صدی عیسوی میں مغربی ایشیا پر حملہ کر دیا۔ اس نے ایک طاقت ور سلطنت بنائی۔ اس کی سلطنت میں اُردن ، شام ، عراق ، فلسطین وغیرہ علاقے شامل تھے۔ ان علاقوں میں اس وقت مسلمانوں کی حکومت تھی۔ سلجوقی ترکوں نے مسلم افواج کو زیر کر کے یہاں اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page