Al-Risala · August 1987 · page 35

ہرقل شہنشاہِ روم منذر بن ساوی شاہِ بحرین

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵

تھا۔ اسلام کی مستقل زندگی کے لیے ضروری تھا کہ وسیع خطہ میں اسلام کا مذہب اس کی زبان اور اس کی تہذیب غالب حیثیت حاصل کر لے۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تقریباً نصف صدی کے اندر پیش آگیا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ عظیم واقعہ اسلام کی دعوتی قوت کے ذریعہ پیش آیا نہ کہ اس کی سیاسی قوت کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی قوت اس قسم کے واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے ناکافی ہے۔ اگر سیاسی قوت کے ذریعہ مذہب کو بدلنا ممکن ہوتا تو آج ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سب کے سب عیسائی ممالک ہوتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بیرون عرب کی اقوام سے لڑائیاں شروع ہوئیں۔ اور اہل اسلام نے بہت کم مدت میں ایشیا سے لے کر افریقہ تک کا بہت بڑا علاقہ فتح کر ڈالا۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان مفتوحہ ممالک میں کبھی بھی تبدیلی مذہب کے لیے جبر نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر مصر کو لیجیے جو خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانے میں فتح ہوا تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے مصر کی تاریخ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلمانوں نے ۶۴۲ء میں مصر کو نہایت تیزی سے فتح کر لیا۔ مگر انھوں نے وہاں شدت کے ساتھ مذہبی رواداری (Religious tolerance) پر عمل کیا۔ مصریوں کو اسلام قبول کرنے پر کبھی مجبور نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ حکومتی سطح پر انھیں ترغیب بھی نہیں دلائی گئی۔ عرب حکمرانوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ عیسائی گر جاؤں کو باقی رکھیں گے : There was no attempt to force, or even to persuade, the Egyptians to convert to Islam. The Arabs even pledged to preserve the Christian Churches (6/487-88). اسی طرح پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب (پریچنگ آف اسلام) میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مصر کے مسلم فاتحین نے عیسائیوں کے ساتھ کامل رواداری کا ثبوت دیا۔ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ مصری عیسائیوں کا کثرت سے اسلام قبول کرنا مسلم حکمرانوں کی طرف سے کسی ظلم یا نا منصفانہ دباؤ کا نتیجہ تھا :

There is no evidence of their widespread apostasy to Islam being due to persecution or unjust pressure on the part of their new rulers (p. 104).

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page