مغل تاتاریوں کا قبول اسلام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸
مغل تاتاریوں کا قبول اسلام
قدیم زمانہ میں ترکستان (روس) اور منگولیا (چین) کے علاقے میں کچھ قبائل آباد تھے جن کو ترک کہا جاتا تھا۔ ان کا ایک سردار چنگیز خاں ( ۱۱۶۲ء-۱۲۲۷ء) تھا۔ یہ غیر معمولی صلاحیت کا آدمی تھا۔ وہ ۲۰ ہزار جنگجو افراد کو جمع کر کے اپنے علاقہ سے نکلا اور فتوحات کرتا ہوا چین سے ایران تک پہنچ گیا۔
اس کے بعد یہ قبائل آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہلاکو خاں (۱۲۱۷ء - ۱۲۶۵ء) اٹھا۔ اس نے اسلامی سلطنت کو برباد کرنے کے بارہ میں اپنے دادا (چنگیز خاں) کے منصوبہ کو مکمل کیا۔ اس نے دار السلطنت بغداد کو بالکل تباہ و برباد کر دیا اور خلیفہ مستعصم کو قتل کر ڈالا۔ تاتاری سرداروں کو مسلم حکمرانوں (خوارزم شاہ) سے کچھ شکایت پہونچی تھی ، اس بنا پر وہ غضب ناک ہوگئے اور مسلم سلطنت کو برباد کرنے کے درپے ہو گئے۔
یہ اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ خوف ناک واقعہ تھا۔ تاتاریوں کے ظلم و فساد کی بنا پر اسلامی دنیا میں ان کا اتنا زیادہ ہول طاری ہوا کہ کہا جانے لگا : اذا قيل لك ان التتر انهزموا فلا تصدق (اگر کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے تو یقین مت کرنا)
یہ ہولناک مسئلہ بھی دعوت ہی کے ذریعہ حل ہوا۔ تاتاری جب مسلمانوں کا خون پوری طرح بہا چکے تو ان کے انتقام کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی۔ اب انھوں نے اپنی "رعایا" کے مذہب پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا شروع کیا۔ مختلف طریقوں سے تاتاریوں کا سابقہ مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا تھا۔ بے شمار مسلمان مرد اور عورتیں گرفتار ہو کر ان کے گھروں پر پہنچیں ، سڑکوں اور بازاروں میں مختلف اسباب کے تحت ایک تاتاری کی ملاقات ایک مسلمان سے ہوتی تھی۔ تاتاری حکمراں کے دربار میں مسلمان جاتے رہتے تھے۔ اس طرح مختلف طریقہ سے تاتاری لوگ اسلام کی تعلیمات سے آشنا ہوئے اور اس سے تعارف حاصل کیا۔
اس کے بعد ان کے اسلام قبول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اولاً ان کے حکمرانوں اور سرداروں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد عام تاتاریوں نے اس کی پیروی کی۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اسلام کی عمارت کو ڈھایا تھا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues