مغل تاتاریوں کا قبول اسلام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹
رہی دوبارہ اسلام کی عمارت تعمیر کرنے والے بن گئے۔ تاریخ اسلام کے اس عظیم دعوتی واقعہ کی تفصیل پیش کرتے ہوئے پروفیسر آرنلڈ نے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ فاتح نے مفتوح کے مذہب کو اختیار کر لیا : The conquerors have accepted the religion of the conquered. پروفیسر فلپ ہٹی نے اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے : The religion of the Muslims had conquered where their arms had' failed (p. 488). مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے۔ سب کچھ چھننے کے بعد بھی دعوت ایک ایسی طاقت ہے جو اہل ایمان کے پاس اس وقت بھی باقی رہتی ہے جب کہ ان کا سب کچھ ان سے چھن چکا ہو۔ اس کی ایک سبق آموز مثال وہ ہے جو افریقہ میں پائی جاتی ہے ۔ پروفیسر آرنلڈ نے اپنی کتاب پریچنگ آف اسلام میں دکھایا ہے کہ الجزائر کے بربری قبائل میں اسلام کس طرح پھیلا۔ ان قبائل میں کچھ لوگ عیسائی تھے اور زیادہ تر وہ لوگ تھے جو قدیم مشرکانہ مذہب پر قائم تھے۔
یہ لوگ پہاڑی علاقہ میں رہتے تھے اور پہاڑوں کے حصاروں میں بند تھے۔ قبائلی مزاج کے تحت وہ اپنی خودمختاری کے دل دادہ بنے ہوئے تھے ۔ انھوں نے عرصہ تک اپنے یہاں عربی عناصر کے داخلے کو کامیابی سے روکا ، لہٰذا ان کو مسلمان بنانے میں بہت سی مشکلات حائل تھیں۔ اس سے پہلے قادریہ سلسلہ کی ایک خانقاہ (ساقية الحمرا) کے صوفیوں نے ان کے یہاں ایک تبلیغی مشن قائم کرنے کی کوشش کی تھی ، مگر انھیں اس کام میں کامیابی نہ ہوئی۔ ان کے درمیان اسلام کے لیے راستہ ہموار کرنے کا سہرا اندلسی مسلمانوں کے سر ہے جو سقوط غرناطہ (۱۴۹۲ء) کے بعد اسپین سے نکال دیئے گئے تھے ، اور اس خانقاہ میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔ خانقاہ کے شیخ نے دیکھا کہ یہ لوگ تبلیغ کے اس دشوار کام کے لیے بہت موزوں ہیں جس کے سرانجام دینے میں ان کے اپنے مریدوں کی کوششیں ناکام رہی تھیں۔ اس کام پر روانہ کرنے سے پہلے انھوں نے ان کو ان الفاظ میں مخاطب کیا :
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues