Al-Risala · January 1987 · page 2

مومن کون

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۲

مومن کون

لوگ چیزوں کو دیکھتے ہیں، مومن چیزوں میں خدا کو دیکھتا ہے۔ لوگ چیزوں میں اٹک کر رہ جاتے ہیں، مومن وہ ہے جو چیزوں سے گزر کر خدا تک پہنچ جائے۔ پھل کو درخت سے گرتے ہوئے ہر شخص نے دیکھا ہے۔ مگر جس نے درخت سے پھل گرنے کے واقعہ میں گریویٹی (قوت کشش) کو دیکھا وہ نیوٹن بن گیا۔ میٹر (مادہ) کو ہر شخص دیکھتا ہے، مگر جس نے میٹر میں الیکٹران کی حرکت کو دیکھا وہ مائیکل فرڈے بن گیا۔ ذرہ ہر جگہ ہے اور ہر شخص اس کو دیکھ رہا ہے ۔ مگر جس نے ذرہ میں نیو کلیئر فورس (جو ہری طاقت) کو دیکھا وہ آئن سٹائن بن گیا۔ اسی طرح دنیا کو ہر شخص دیکھتا ہے مگر جو شخص دنیا میں خدا کو دیکھ لے وہی مومن ہے ۔ بائبل میں ایک تمثیل دی گئی ہے کہ جس کے پاس سننے کے لیے کان ہوں وہ سن لے۔ پس اس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہ دوں۔ وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں:

ہم نے تمہارے لیے بانسری بجائی، اور تم نہ ناچے ۔ ہم نے تمہارے لیے ماتم کیا اور تم نہ روئے۔ خدا اس دنیا میں ہر وقت اپنی بانسری بجا رہا ہے ۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ انسان اس کو سنے اور اس سے سرشار ہو کر رقص کرے۔ مگر انسان عین اس خدائی بانسری کے درمیان بے حس اور بے خبر بنا ہوا پڑا رہتا ہے۔ خدا اس دنیا میں ایسے واقعات ظاہر کرتا ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر تڑپیں، لوگ اپنے آنسوؤں سے اس کا استقبال کریں۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ تڑپا نے والے واقعات کو دیکھ کر بھی وہ نہیں تڑپتا ، رلانے والے واقعات سے دوچار ہونے کے باوجود وہ نہیں روتا۔

انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا اعتراف کرے ۔ مگر انسان اس کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ آج انسان ایک لفظ دے کر چھوٹ سکتا ہے۔ کل وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ ساری کائنات دے کر بھی چھوٹ نہ سکے گا۔ کیسا عجیب ہے انسان کا آج ، اور کیسا عجیب ہوگا انسان کا کل جس کے آنے میں کچھ دیر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page