Al-Risala · January 1987 · page 3

ایمان ایک دریافت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۳

ایمان ایک دریافت

موجودہ زمانہ میں نظامِ شمسی کے نقشے نہایت مہارت کے ساتھ بنائے گئے ہیں اور وہ کتابوں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ مگر کوئی آرٹسٹ صحیح معنوں میں نظامِ شمسی کا نقشہ نہیں بناپاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح نقشہ بنانے کے لیے اس کو بہت بڑے کاغذ پر پھیلانا پڑے گا۔ مثلاً زمین کے مقابلہ میں سورج بارہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ یعنی زمین کو اگر ایک فٹ بال کے برابر دکھایا جائے تو سورج کو بارہ لاکھ فٹ بال کے بقدر بڑھا کر دکھانا پڑے گا۔ یہی معاملہ سورج اور اس کے آخری سیارہ کے فاصلہ کا ہے۔ پھر اتنا بڑانقشہ کیسے کوئی آرٹسٹ بنا سکتا ہے۔

فرض کیجیے کہ آپ خلا میں ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں سے آپ پورے نظامِ شمسی کو بیک وقت دیکھ سکیں۔ تو آپ کے سامنے ایک عجیب حیرت ناک منظر ہوگا۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک بہت بڑا آگ کا گولہ ہے جو مسلسل بھڑک رہا ہے۔ پھر اس کے چاروں طرف تقریباً ایک درجن غیر منور بہت چھوٹے گولے ہیں جو مسلسل اس کے گرد بیضوی دائرہ میں گھوم رہے ہیں ــــــ اس قسم کے بے شمار مناظر جو کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں وہ اس لیے ہیں کہ ان کے آئینہ میں آدمی ان کے خالق کو دیکھے ، آدمی کے اندر معرفت کی وہ روشنی پیدا ہو جس کو شریعت میں ایمان کہا گیا ہے۔ اس طرح مخلوقات کی عظمت میں خالق اپنی عظمت کو دکھا رہا ہے ۔ مخلوقات کی حکمت و معنویت میں خالق اپنی بے پایاں حکمت و معنویت کو نمایاں کر رہا ہے ۔ مومن وہ ہے جو مخلوقات کے آئینہ میں اس کے خالق کو دیکھ لے۔

ایمان ایک دریافت ہے ۔ وہ غیب میں شہود کو پالینا ہے۔ وہ دیکھے بغیر دیکھ لینا ہے ۔ حقیقت سامنے نہ ہوتے ہوئے حقیقت کو اس طرح محسوس کر لینا ہے جیسے وہ بالکل سامنے موجود ہو۔ دریافت ایک ایسا انقلابی تجربہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ وہ پیش آتا ہے وہ اس کی پوری ہستی کو ہلا دیتا ہے ۔ وہ ذہن کو نیا رخ دیتا ہے ۔ وہ قلب میں نئی گرمی پیدا کرتا ہے ۔ ایک معمولی چیز کی دریافت بھی آدمی کے اندر ہلچل پیدا کر دیتی ہے۔ پھر خدا کی دریافت آدمی کے اندر کتنی بڑی ہلچل پیدا کرے گی ، اس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page