Al-Risala · September 1987 · page 2

سبب اپنے اندر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲

سبب اپنے اندر

قرآن میں اہلِ ایمان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر تم ایمان اور ہدایت پر قائم رہو گے تو دوسروں کی مخالفانہ کارروائیاں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔ اس سلسلہ میں دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ اے ایمان والو، تم اپنی فکر رکھو۔ کسی کی گمراہی تم لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ کو نقصان نہیں پہنچائے گی اگر تم ہدایت پر ہو۔ (المائدہ ۱۰۵)

وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ بے شک (آل عمران ۱۲۰) اللہ کے بس میں ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔

قرآن کے اس اعلان کے مطابق، اہلِ ایمان کے لیے اصل قابلِ توجہ چیز ان کا داخل ہے نہ کہ ان کا خارج۔ اہلِ ایمان کو سب سے زیادہ جس چیز کا اہتمام کرنا ہے وہ یہ کہ وہ خدا کی ہدایت پر قائم رہیں۔ یہ ہدایت ربانی ان کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کرے گی۔ اور صبر اور تقویٰ کی صفت ان کے لیے اغیار کی ضرر رسانی کے مقابلہ میں مانع بن جائے گی۔ صبر اور تقویٰ ان تمام تدبیروں اور سازشوں کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر روک ہے جو امکانی طور پر دوسرے لوگ کر سکتے ہیں۔

دنیا میں کوئی شخص یا کوئی قوم تنہا نہیں۔ یہاں دوسرے بہت سے لوگ بھی ہیں۔ اور ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے آزادی عطا کی ہے۔ ہر آدمی اپنے مقصد کے لیے دوڑ رہا ہے۔ ہر آدمی دوسرے کو دھکیل کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے چوٹ لگتی ہے۔ ایک کو دوسرے سے کوئی نقصان پیش آتا ہے۔ یہ صورتِ حال خود خدا کی قائم کردہ ہے۔ اس کو ختم کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ وہ جس طرح مسلم اور غیر مسلم کی مخلوط آبادی میں ہے اسی طرح وہاں بھی جاری رہے گی جہاں صرف مسلمان ہوں، اور کوئی دوسری قوم وہاں نہ پائی جاتی ہو۔

ایسی حالت میں مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ آدمی ہر ٹکرانے والے سے ٹکرائے۔ اس کا واحد حل وہی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page