سبب اپنے اندر
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳
ہے جس کو قرآن میں اعراض (Avoidance) کہا گیا ہے۔ اعراض ہی واحد تدبیر ہے جس کے ذریعہ کوئی شخص اس دنیا میں اپنا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔
صبر اسی اعراض کی قیمت ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر اور برداشت کا مادہ نہ ہو وہ اعراض نہیں کرسکتے ، اور جو لوگ اعراض نہ کریں ان کے لیے اس دنیا میں کامیاب ہونا بھی ممکن نہیں۔ تاہم صبر کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ صبر کے لیے آدمی کو اپنے مشتعل جذبات کو دبانا پڑتا ہے۔ صبر کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی کھونے کو برداشت کرے۔ صبر کے طریقہ پر وہی آدمی چل سکتا ہے جو ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ جائے۔
تقویٰ آدمی کے اندر یہی جو ہر پیدا کرتا ہے۔ تقویٰ سے مراد اللہ کا خوف ہے۔ عام آدمی لوگوں میں جیتا ہے۔ متقی آدمی لوگوں سے گزر کر خدا میں جینے لگتا ہے۔ متقی کی ساری توجہ اس پر لگ جاتی ہے کہ جو کچھ خدا سے ملنے والا ہے اس کو وہ نہ کھوئے ۔ وہ بظاہر اسی دنیا میں ہوتا ہے مگر اپنے احساس کے اعتبار سے وہ دنیا سے اٹھ کر آخرت میں پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح تقویٰ آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے۔ کوئی بھی حادثہ اس کے ذہنی استحکام کو منتشر نہیں کرتا۔ کوئی بھی نقصان اس کو اتنا بڑا نظر نہیں آتا جس کو وہ برداشت نہ کر سکے۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے، اور جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ صفت پیدا ہو جائے ان کو تمام قومیں مل کر بھی زیر نہیں کر سکتیں ۔ صبر اور تقویٰ کا ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق ہے ۔ صبر کرنا اپنے آپ کو خدا کے حد پر روکے رکھنا ہے ۔ اس کے برعکس آدمی جب دشمن کی دشمنانہ کارروائیوں پر بے صبر ہوتا ہے تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا سے بے خوف ہو کر حد سے باہر نکل جاتا ہے ۔ وہ ایسے کام کرنے لگتا ہے جن سے خدا نے اس کو منع کیا تھا۔ مثلاً دشمن سے متنفر ہو کر اس سے اشتعال انگیزی کا سلوک کرنا ، غصہ اور نفرت کی بنا پر فریق ثانی کے بارے میں انصاف کی بات نہ کرنا، اپنی زیادتی کو گھٹانا اور دوسرا اگر زیادتی کرے تو اس کو بڑھا کر بیان کرنا، دشمنانہ فعل کسی اور نے کیا ہو اور اس کا بدلہ کسی اور سے لینا، حق کی حمایت کرنے کے بجائے قوم کی حمایت کرنا ، وغیرہ۔
جو شخص تقویٰ پر ہو وہ خدا کی مدد سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے ، اور جو شخص تقویٰ کی حد پر قائم نہ رہے وہ خدا کی مدد سے محروم ہو جاتا ہے ۔ ایسے شخص کے لیے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues