ایک مشورہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۵
ڈاکٹر رائٹ نے حالات کے گہرے تجزیہ کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر نمایاں بنالیں تاکہ وہ ہندو (اکثریتی فرقہ) کے غضبِ ناکی کا شکار نہ ہوں۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے بہت سخت مشورہ ہے جو فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوں اور اپنی عظمت کے نشانات کے درمیان رہتے ہوں۔ مگر اس کے بغیر وہ فسادات کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرتے رہیں گے، جو بہت مہنگی ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں ماننا چاہیے کہ ہندو ساحلی علاقہ کے تجارت پیشہ مسلمانوں کے خلاف بہت کم یا بالکل توجہ نہیں دیتے :
ہندوستانی مسلمانوں پر مسلمان لکھنے والوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے تقریبا تمام قابلِ ذکر حصہ کو راقم الحروف نے پڑھا ہے۔ مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس سلسلہ میں اردو یا عربی یا انگریزی میں جو کچھ لکھا گیا ہے ان سب پر مذکورہ امریکی مستشرق کی تحریر بھاری ہے۔ کسی بھی مسلم اہلِ قلم نے اس مسئلہ کا اتنا گہرا جائزہ نہیں پیش کیا جیسا کہ مذکورہ امریکی عالم نے پیش کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ گزرے ہوئے ماضی کی پر فخر یادوں میں اٹکے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اب تک اپنے حال کو نہیں سمجھا اور نہ حال کے مطابق وہ اپنے لیے حقیقت پسندانہ منصوبہ بنا سکے۔
موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے بہترین مشورہ یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس ”پچھلی سیٹ“ پر بیٹھنے کے لیے راضی کر لیں جہاں حالات نے انھیں پہنچا یا ہے۔ جدید ہندوستان میں باعزت مقام حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا جو راستے ان کے لیڈر پیش کر رہے ہیں وہ صرف بربادی میں اضافہ کرنے والے ہیں نہ کہ کامیابی کی طرف لے جانے والے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues