لوگو ، خدا سے ڈرو
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶
ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کو اس حقیقت سے باخبر کریں تاکہ بھٹکی ہوئی قوموں پر نجاتِ آخرت کا دروازہ کھلے۔ اور جو لوگ معلوم ہو جانے کے باوجود خدا کی ہدایت کو اختیار نہ کریں ان پر یہ گواہی قائم ہو جائے کہ انھیں حقیقت واقعہ سے باخبر کر دیا گیا تھا (لیکون الرسول شہیدا عليكم وتكونوا شهداء علی الناس، الحج ۷۸) یہ ذمہ داری اتنی اہم ہے کہ اس کو ادا نہ کرنے کی صورت میں خود یہ معاملہ مشتبہ ہو جاتا ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے یہاں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی قرار پائیں گے یا نہیں۔
اس حقیقت کی روشنی میں غور کیجیے تو مسلمانوں کے ساتھ اس ملک میں جو کچھ پیش آرہا ہے وہ اسی خدائی ڈیوٹی سے غفلت کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں نے دوسری قوموں کو خدائی پیغام سے آگاہ کرنے کا کام انجام نہیں دیا۔ اس لیے اب خدائی قانون کے مطابق ان کی تنبیہ کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کے بارے میں آگاہ ہو جائیں۔
جب بھی اس ملک میں کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے اور مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھ سے مارے جاتے ہیں تو ہمیشہ اس سے ایک آواز سنائی دیتی ہے ۔ " قال " کی زبان میں نہیں بلکہ " حال " کی زبان میں۔ وہ آواز یہ ہوتی ہے :
تم نے ہماری آخرت کو برباد کیا، ہم تمہاری دنیا کو برباد کریں گے مسلمانوں کے پاس خدا کے محفوظ دین کی امانت ہے۔ مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ اس ملک کے تمام انسانوں کو اس نازک حقیقت سے باخبر کریں۔ وہ اس کو لوگوں کی قابل فہم زبان میں لوگوں تک پہنچاتیں۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ صدیاں گزر گئیں مگر مسلمانوں کے درمیان اس مقصد کے لیے کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی کہ وہ اس حقیقت ربانی سے لوگوں کو آشنا کریں۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے یہ کیا کہ انھوں نے لوگوں سے نفرت کی۔ انھوں نے لوگوں کو حقیر سمجھا۔ وہ لوگوں کی ذرا ذرا سی بات پر مشتعل ہو کر ان سے لڑائی چھیڑتے رہے۔ انھوں نے اپنے اور ان کے درمیان مصنوعی تشخصات کی دیواریں کھڑی کیں۔ اس کے نتیجہ میں لوگ مسلمانوں سے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے دین سے بیزار ہو گئے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان وہ معتدل
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues