Al-Risala · September 1987 · page 14

خدا کی تنبیہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴

فضا باقی نہ رہی جس میں دوسرے لوگ مسلمانوں کے دین پر غور کریں اور اس کے بارے میں ٹھنڈے ذہن کے ساتھ فیصلہ کر سکیں۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ تھا۔ داعی ایک کامیاب دکاندار کی طرح ، یک طرفہ اخلاقیات پر کھڑا ہوتا ہے۔ داعی اپنے آپ کو اس کا پابند بناتا ہے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرے گا۔ مدعو اگر کوئی برا سلوک کرے تب بھی وہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا ، تاکہ دونوں کے درمیان کہنے اور سننے کا ماحول برباد نہ ہونے پائے۔ مگر مسلمان اس داعیانہ اخلاق پر قائم نہ رہ سکے۔

مسلمانوں نے لوگوں سے ان کی آخرت چھینی تھی ، اب لوگ ان سے ان کی دنیا چھین رہے ہیں۔ لوگ اپنے ظلم سے صرف اس وقت باز آئیں گے جب کہ ہم اپنے ظلم سے باز آئیں۔ اس سے پہلے یہ سلسلہ بند ہونے والا نہیں ۔

خدا کی تنبیہ

مسلمانوں کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ ہندو کا ظلم نہیں بلکہ وہ خدا کی تنبیہ ہے۔ جو آدمی اس میں شک کرے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے ، یا کم از کم یہ کہ وہ قرآن وحدیث سے بالکل ناواقف ہے۔

مسلمانوں کے مسئلہ کی جڑ یہ ہے کہ انھوں نے خدا کے بندوں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو خدا کے حکم کے سراسر خلاف تھا۔ مسلمان اپنے دور اقتدار میں ہندوؤں کو حقیر سمجھتے رہے۔ اور اب جب کہ ان کے پاس اقتدار نہیں ہے تو وہ ہندوؤں کو اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ہی باتیں یکساں طور پر جرم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ہندو قوم مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمان داعی ہیں اور ہندو مدعو ہیں۔ ہندو کی نسبت سے مسلمان کے اوپر سب سے پہلا اور سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ اس کو خدا کے دین کا پیغام پہنچائیں۔ اپنے اور ہندو قوم کے درمیان ناصحانہ فضا قائم کرنے کے لیے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ ہندو کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کریں۔ جس طرح مسلمانوں پر دعوت فرض ہے ، اسی طرح دعوت کی خاطر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا بھی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page