مثل صحابہ ایمان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۷
اللہ تعالیٰ کو مثل صحابہ ایمان مطلوب ہے ۔ اس کو مثل یہود ایمان مطلوب نہیں ۔ اب دیکھئے کہ دونوں میں فرق کیا تھا۔ وہ فرق صرف فہرست کے مکمل ہونے یا نامکمل ہونے کا نہ تھا۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کی فہرست انبیاء مکمل ہے اور یہود کی فہرست انبیاء نامکمل ۔ یہ فرق حقیقت کا فرق تھا نہ کہ سادہ معنوں میں محض ظاہری فہرست کا ۔ یہود حضرت ابراہیم ، حضرت یعقوب ، حضرت موسیٰ کو مانتے تھے ۔ ان پیغمبروں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ گزرے ہوئے دور کے پیغمبر تھے ۔ یہود کی قومی روایات میں ان کو عظمت کا مقام مل چکا تھا۔ ہر یہودی جو پیدا ہوتا وہ اول دن سے ان پیغمبروں کا نام اس حیثیت سے سنتا کہ وہ اس کی قوم کے عظیم بزرگوں میں سے تھے ۔ وہ ان کو ابتدا ہی سے عظیم پیغمبر کی حیثیت سے جانتا تھا ۔
اس کے برعکس محمد بن عبداللہ کا معاملہ یہ تھا کہ مدینہ کے یہود پہلی بار ان سے متعارف ہوئے تو اس طرح متعارف ہوئے کہ وہ اپنے وطن سے نکال دیئے گئے ہیں اور پناہ گزیں کے طور پر مدینہ پہنچے ہیں ۔ پہلے پیغمبروں کے نام کے ساتھ عظمت کی پُر اسرار داستانیں شامل تھیں جب کہ محمد بن عبداللہ النّران کو بس ایک عام انسان کے روپ میں دکھائی دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے پیغمبروں کا پیغمبر ہونایہود کی سمجھ میں آیا اور محمد بن عبداللہ کا پیغمبر ہونا ان کی سمجھ میں نہ آسکا ۔ آپ کے بارے میں یہود کا پہلا تاثر ہی ان کے لیے آخری تاثر بن گیا ۔ صحابہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے بھی اگرچہ آپ کو پہلی بار اسی روپ میں دیکھا جس روپ میں یہود نے آپ کو دیکھا تھا مگر صحابہ اس ظاہری مشاہدہ پر نہیں رکے بلکہ انہوں نے آپ کو اندر تک دیکھنے کی کوشش کی۔ یہود آپ کو ظاہر کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے، صحابہ نے آپ کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھا۔ یہود آپ کو آپ کے حال کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے، صحابہ نے آپ کو آپ کے مستقبل کے اعتبار سے دیکھا ۔ یہود آپ کو محمد بن عبداللہ کے روپ میں دیکھ رہے تھے صحابہ نے آپ کو محمد رسول اللہ کے روپ میں دیکھا ۔ گویا کہ صحابہ نے جوہر شناسی کا ثبوت دیا اور یہود جوہر شناسی کا ثبوت دینے سے عاجز رہے صحابہ نے حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھا اور اس کو پہچان کر اس کا ساتھ دیا۔ جب کہ یہود نے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues