مثل صحابہ ایمان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶
حصّہ دوم قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم واسماعيل و اسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون فان امنوا بمثل ما امنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانماهم في شقاق فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم (البقرة ۳۷-۱۳۶)
کہدو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کلام پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور اس پر جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب پر اتارا گیا ۔ اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو اللہ کی طرف سے دیا گیا۔ ہم ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ پس اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو انہوں نے ہدایت پائی۔ اور اگر وہ پھر جائیں تو وہی ضد پر ہیں۔ اللہ تمہاری طرف سے ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔
مثل صحابہ ایمان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں اور اطرافِ مدینہ میں یہود آباد تھے۔ یہ آیت انہیں یہودیوں کے ذیل میں آئی ہے۔ یہ یہودی ان تاریخی نبیوں کو مانتے تھے جو پچھلے زمانہ میں ان کی نسل میں آئے اور جن کا ذکر ان کی کتاب بائبل میں موجود ہے ۔ مگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کا انکار کرتے تھے جو ان یہودیوں کے اپنے زمانہ میں عرب میں پیدا ہوئے ۔ اس کے برعکس صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ وہ تمام پیغمبروں کا اقرار کرتے تھے ۔ اس پر کہا گیا کہ یہودی اگر صحابہ کی طرح مومن بنیں ، وہ پچھلے پیغمبروں کو ماننے کے ساتھ وقت کے پیغمبر کو بھی ۔ مانیں تو وہ خدا کی نظر میں مومن ہیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایمان دو قسم کا ہے ۔ ایک مثلِ یہود ایمان ۔ دوسرا مثل صحابہ ایمان۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues