Al-Risala · September 1987 · page 41

خدا کی نسبت سے دیکھنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱

گا۔ کیوں کہ خدا کی نظر میں سب حقیر اور کمزور ہیں۔ یہ ذہن خود بخود ظلم و زیادتی کے مزاج کو چھین لیتا ہے۔

صحابہ کرام کا حال یہی تھا ۔ وہ ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتے تھے ۔ وہ انسان کی طرف بڑھتے ہوئے سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھ ہر ظلم سے رکے رہتے تھے ۔ ان کا قدم زیادتی کی طرف بڑھنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ ہر انسان کے ساتھ اس کا خدا کھڑا ہوا ہے ۔

دوسرے مسلمانوں کا ایمان بھی اسی وقت ایمان ہے جب کہ وہ اس قسم کا زندہ ایمان بن جائے۔ جب ان کے اوپر خدا کی عظمت اس طرح چھا جائے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو اس کے زیر اثر محسوس کرنے لگیں۔ جب بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے بھی وہ یہ سوچ کر سنبھل جائیں کہ وہ خدا سے معاملہ کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ بندہ کمزور ہے مگر خدا تو کمزور نہیں۔ انتقام نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ وہ ہے جس کو غزوہ بنی المصطلق کہتے ہیں ۔ یہ غزوہ 5ھ میں پیش آیا۔ اس غزوہ کے بعد ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ کو بد نام کرنا شروع کیا ۔ بعد کو قرآن ( سورہ نور) میں آیت اتری جس نے حضرت عائشہ کی کامل برأت کر دی ۔

اس وقت مدینہ میں ایک مہاجر مسلمان تھے جن کا نام مسطح بن اثاثہ تھا ۔ وہ بھی منافقوں کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر اس الزام میں شریک ہو گئے ۔ مسطح حضرت ابو بکر کے دور کے عزیز تھے ۔ ان کی غربت کی وجہ سے حضرت ابو بکر ہر ماہ ان کی مدد کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ حضرت ابو بکر کی صاحبزادی تھیں ۔ قدرتی طور پر ان کو اس واقعہ کے بعد مسطح سے سخت شکایت ہو گئی۔ مسطح کے اس فعل کے بعد حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ اب میں مسطح کی کوئی مدد نہیں کروں گا۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری کہ ۔ تم میں جو لوگ وسعت والے ہیں ان کو نہیں چاہیے کہ وہ قسم کھا لیں کہ وہ مسکینوں کی مدد نہیں کریں گے ۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں ۔ کیا تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے ۔ اور اللہ بہت معاف کرنے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page