ہر حال میں انصاف
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲
ہر ابن سعد بن جبیر و مخدوم اسلم بن یسیر نے لکھا کہ سورہ نور میں حضرت ابو بکر نے اس آیت کے بعد کہا : بلی واللہ انی لاحب ان یغفر اللہ لی ، ہاں خدا کی قسم میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کر دے ، اور مسطح کو جو اعانت وہ دیا کرتے تھے اس کو دوبارہ جاری کر دیا۔ بلکہ بعض روایات کے مطابق اس میں اضافہ کر دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ذاتی شکایت کے معاملہ میں صحابہ کا طریقہ کیا تھا۔ ان کی شکایت کبھی نفرت اور انتقام کی اس حد تک نہیں پہنچتی تھی جو دل سے نکل ہی نہ سکے۔ اور نہ ایسا ہوتا تھا کہ شکایت پیدا ہونے کے بعد وہ شکایت والے آدمی کے لیے ظالم بن جائیں ۔ اور اس کے خلاف ہر کارروائی کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ صحابہ کرام ہر معاملے کو آخرت کے لحاظ سے دیکھتے تھے۔ وہ دوسروں کے قصور کو معاف کرتے تھے تاکہ خدا ان کے قصور کو معاف کرے ۔ وہ دوسروں کی کوتاہی سے درگزر کرتے تھے تاکہ خدا ان کی کوتاہی سے درگزر فرمائے ۔ آخرت کا مسئلہ ان کے ذہن پر اتنی شدت سے چھایا ہوا تھا کہ اس کے مقابلہ میں دوسرا ہر مسئلہ انہیں ہلکا نظر آتا تھا۔ وہ آخرت کی خاطر سب کچھ چھوڑ سکتے تھے ۔ وہ آخرت کی خاطر ہر رنج کو بھلا دیتے تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اس اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دے سکے کہ انہوں نے برائی کے بدلے بھلائی کا سلوک کیا ۔ انہوں نے تکلیف پہنچانے والوں کو دعائیں دیں۔ جنہوں نے ان کو ستایا ان کے لیے وہ رحمت کا چشمہ بن گئے ۔ یہی ایمان مثل صحابہ ایمان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو جو ایمان مطلوب ہے وہ وہی ہے جو مثل صحابہ ایمان ہو۔ جس شخص کو یہ تمنا ہو کہ آخرت میں خدا اس کے ایمان کو قبول کرے اس کو چاہیے کہ وہ صحابہ کے نمونے کو پکڑے ، وہ صحابہ کے طریقہ کی پیروی کرے ۔ وہ ایمان کے معاملے میں صحابہ کی تقلید کرنے والا بن جائے ۔
ہر حال میں انصاف
عبدالرحمن بن عوف ایک صحابی تھے ۔ اور حضرت خالد بن ولید بھی ایک صحابی تھے ۔ دونوں کے درمیان کسی دنیوی معاملہ میں شکایت پیدا ہوگئی ۔ شکایت اتنی بڑھی کہ وہ عرصہ تک ختم نہ ہوسکی ۔
اس درمیان میں ایک شخص حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آیا ۔ اس نے ان کو خوش
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues