ہر حال میں انصاف
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۷
فسادات کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے ایک بنیادی تجویز یہ ہے کہ ایک جیپ حاصل کی جائے اس میں لاؤڈ اسپیکر نصب ہو۔ اور اسی کے ساتھ ضروری تعمیری لٹریچر بھی موجود ہو۔ جیپ کے ذریعہ چند صالح مزاج کے آدمی بستیوں بستیوں کا سفر کریں اور ہر جگہ جا کر لوگوں کو سمجھائیں اور ان کے اندر تعمیری شعور پیدا کریں۔ اس اسکیم کے سلسلہ میں جو لوگ اپنا تعاون دینا چاہیں وہ مطلع فرمائیں۔
عرب ملکوں میں باہر کے لوگ کافی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے درمیان دعوتی کام کے زبردست مواقع ہیں۔ کئی عرب ملکوں سے اس قسم کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ مثلاً ایک عرب ملک میں وہاں کے عرب نوجوان جو کمپنیوں میں کام کرتے ہیں وہ اپنی کمپنیوں میں کام کرنے والے مغربی افراد تک انگریزی الرسالہ پہنچارہے ہیں جن کو وہ بڑے شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
ایک عرب ملک سے ایک صاحب ایجنسی لکھتے ہیں: انگلش الرسالہ یہاں الحمد للہ یورپین افسران بڑی دل چسپی سے پڑھتے ہیں۔ ان کے درمیان انگریزی الرسالہ دن بدن مقبول ہوتا جا رہا ہے ۔ انھوں نے انگریزی الرسالہ کی تعداد میں اضافہ کے لیے تحریر فرمایا ہے۔ ایک صاحب گلبرگہ سے لکھتے ہیں " ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ پابندی سے ہو رہا ہے۔ یہاں کثرت سے لوگوں کے ہاتھوں میں الرسالہ نظر آتا ہے۔ ماضی اور حال کا جائزہ لینے کے بعد یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ الرسالہ کا مستقبل بہت ہی زیادہ روشن ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ الرسالہ سے اپنی تمام اندرونی برائیوں کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ اور زندگی کی اندھیریوں میں ہمارے لیے الرسالہ ایک شمع کی مثال رکھتا ہے (غیاث رشاد ی)
ایک صاحب لکھتے ہیں : میں نے آپ کی کتاب تجدید دین کا گہرا مطالعہ کیا۔ واقعی یہ دین کی تجدید کرتی ہے۔ وہ تمام خیالات جو دین میں رخنہ پیدا کرتے ہیں ، اس کے مطالعہ سے دور ہو جاتے ہیں اور دین کا صحیح مفہوم دماغ میں آجاتا ہے۔ اس کتاب کو سمجھنے کے لیے وسیع النظری کی ضرورت ہے، کو تاہ ذہن اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ میں نے تذکیر القرآن کی پہلی جلد کا مطالعہ کیا ہے۔ موجودہ سائنسی دور کے لیے یہ بہترین تفسیر ہے ۔ (عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ ، سکندر آباد)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues