Al-Risala · September 1987 · page 46

ہر حال میں انصاف

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۶

انگلینڈ سے مسٹر ایڈورڈوٹنر (Edward Witners) نے اپنے خط (۲۵ جون ، ۱۹۸۱) میں الرسالہ انگریزی کے بارہ میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور دو سال کا زر تعاون بھیجتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے نام پابندی کے ساتھ الرسالہ انگریزی جاری رکھا جائے ۔ روزنامہ انقلاب میں مسٹر مترسیتارختی نے " خاتون اسلام " پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” مولانا وحید الدین خاں کی شخصیت ہندوستانی مسلمانوں کے آئندہ سنہرے دور کی ضمانت ہے ۔ ان کا الرسالہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے جس کے ہم ایسے کا فر بھی مستقل قاری ہیں۔ ان کا تازہ ترین کارنامہ ۱۹۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب جس کا نام انھوں نے خاتون اسلام رکھا ہے ، ہم ہندوستانیوں کے ذہنوں پر جو مغربی کلچر کا احساسِ برتری چھایا ہوا ہے ، اس احساسِ برتری کے قفل پر موصوف کی یہ تصنیف بھر پور طاقت سے چلایا ہوا ایک ہتھوڑا ثابت ہوئی ہے “ تفصیلی تبصرہ انقلاب ( ۹ مئی ، ۱۹۸۱) میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے صدرِ اسلامی مرکز نے افریقہ کا سفر کیا۔ یہ سفر جون ، ۱۹۸۱ میں ہوا۔ اس کی مفصل روداد آئندہ کسی شمارہ میں انشاء اللہ شائع کر دی جائے گی ۔

میرٹھ کے حالات جاننے کے لیے صدرِ اسلامی مرکز نے ایک وفد کے ساتھ ۲۸ جون ، ۱۹۸۱ کو میرٹھ کا سفر کیا۔ اس سفر کے تاثرات اور مشاہدات انشاء اللہ آئندہ شائع کیے جائیں گے ۔ مندر مارگ (نئی دہلی) میں ۹ مئی ، ۱۹۸۱ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر صدرِ اسلامی مرکز نے قرآن کا درس دیا۔ درس کا موضوع ” نماز “ تھا۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں نماز کی اہمیت واضح کی گئی ۔

بعض مقامات پر یہ سوچ ابھری ہے کہ موجودہ فسادات کی اصل جڑ لوگوں کی بے شعوری ہے۔ ان فسادات کو ختم کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے شعوری کو ختم کر دیا جائے۔ چنانچہ ان مقامات پر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ الرسالہ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلایا جائے تاکہ لوگ باشعور بنیں ۔ یہ نہایت صحت مند رجحان ہے۔ فساد کی جڑ اسی طرح کٹ سکتی ہے ۔ ضرورت یہ ہے کہ ہر جگہ یہی کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الرسالہ پڑھایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page