Al-Risala · October 1987 · page 5

پیغام رسانی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۵

ترقی یافتہ نہیں ہے کہ وہ کامیاب طور پر دور جدید کی ایک ریاست کی سرکاری زبان بن سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندی زبان کے تمام بڑے بڑے علم بردار اپنے بچوں کو ہندی اسکول کے بجائے انگلش اسکول میں پڑھانا پسند کرتے ہیں ۔

دوسری بڑی وجہ وہ تھی جو جنوبی ہند کی طرف سے پیدا ہوئی ۔ جنوبی ہند جو ہندوستان کا نصف حصہ ہے ، اس کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ہندی کو انڈین یونین کی سرکاری زبان بنایا گیا تو تمام مرکزی شعبوں میں شمالی ہند کا غلبہ ہو جائے گا اور وہ پیچھے ہو کر رہ جائیں گے ۔ چنانچہ جنوبی ہند میں اس کے خلاف شدید رد عمل ہوا۔ یہاں تک کہ نئی دہلی کے پالیسی ساز لیڈروں کو دستور کی اس دفعہ کو تاریخ کے سرد خانہ میں ڈال دینا پڑا۔

ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کو دستوری حقوق نہ ملنے کا مسئلہ کہنا اس کی سنگینی کو گھٹانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ خود مسلمانوں کے اپنے پچھڑے پن کا مسئلہ ہے ۔ مسلمان اس ملک میں دراصل اپنے پچھڑے پن کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور اس کو غلط طور پر وہ دوسروں کے ظلم اور تعصب کے خانہ میں ڈال دینا چاہتے ہیں ۔

جو صورت حال حقیقت کے زور پر پیدا ہوئی ہو، اس کو آپ قانون کے زور پر ختم نہیں کر سکتے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی بے شعوری ہے ۔ اسی بے شعوری کی وجہ سے وہ اب تک تعلیم کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے ۔ اسی بنا پر وہ اس راز کو نہیں جانتے کہ مواقع کو استعمال کرنے کے لیے مسائل کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ تقریریں کرنے اور بڑے سے بڑے الفاظ بولنے کو کام سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ یہ محض لفظ بازی ہے نہ کہ کوئی واقعی کام ۔

اسی شعوری پچھڑے پن کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر چیز میں پیچھے ہو گئے ہیں ۔ شعور آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ حالات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھے ۔ وہ اپنے لیے صحیح منصوبہ بنائے ۔ وہ لوگوں کی مخالفانہ کارروائیوں کی کاٹ کر سکے ۔ وہ اپنے امکانات کو سمجھے اور ہوش مندی کے ساتھ ان کو استعمال کرے۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسروں کے ظلم اور تعصب کے باوجود اپنے لیے راہ نکالنی پڑتی ہے، مسلمان اس صلاحیت کو کھو چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حالات کے خلاف صرف چیخ پکار کر رہے ہیں ، وہ ابھی تک اپنے لیے کوئی راستہ دریافت کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page